.

2020ء کی پہلی سہ ماہی میں ایران کی بھارت کے لیے برآمدات میں 94 فی صد کمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی 2020ء کی پہلی سہ ماہی میں بھارت کو برآمدات میں 94 فی صد کمی واقع ہوئی ہے۔

بھارت کی وزارت خزانہ کی جانب سے جمعرات کو جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ سال پہلی سہ ماہی کے دوران میں ایران کی بھارت کے لیے برآمدات کاحجم 2 ارب ڈالر سے زیادہ رہا تھا۔2018ء میں اسی عرصے کے دوران میں ایرانی برآمدات کا حجم 3 ارب ڈالر رہا تھا لیکن رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں ایرانی برآمدات کا حجم کم ہوکر صرف 8 کروڑ ڈالر رہ گیا ہے۔

بھارت کی ایران کے لیے برآمدات میں بھی اس سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران میں 2019ء کے اسی عرصے کے مقابلے میں 38 فی صد کمی واقع ہوئی ہے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مئی 2018ء میں ایران کے چھے بڑی طاقتوں کے ساتھ طے شدہ جوہری سمجھوتے سے یک طرفہ طور پر دست بردار ہونے کا اعلان کردیا تھا اور اس کے بعد ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کی پالیسی کے تحت سخت پابندیاں عاید کردی تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ ایک جامع ڈیل چاہتے ہیں جس میں اس کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور مشرق اوسط میں سرگرمیوں کا بھی احاطہ کیا گیا ہو۔

صدر ٹرمپ کی ایران کے خلاف عاید کردہ پابندیوں کے نتیجے میں ایران کی معیشت زبوں حال ہوچکی ہے اور بہت سے ممالک نے ایران کی مصنوعات اور تیل کی برآمدات پر پابندی عاید کررکھی ہے۔

بھارت ماضی قریب میں چین کے بعد ایران سے تیل کا دوسرا بڑا خریدار ملک رہا تھا لیکن اس نے 2019ء کی دوسری ششماہی میں ایران سے تیل کی خریداری بند کردی تھی۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے یہ توقع ظاہر کی تھی کہ اس سال ایران کی کل برآمدات کی مجموعی مالیت 46 ارب ڈالر رہے گی۔ یہ 2018ء میں ایرانی برآمدات کے مقابلے میں نصف سے بھی کم ہے۔