.

کرونا کی دوسری اور تیسری لہر کے لیے تیار رہنا چاہیے: ڈبلیو ایچ او

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ متعدد ماہرین ابھی بھی کرونا وائرس کی دوسری لہروں کی توقع کر رہے ہیں۔ کرونا کی وبا اب تک 58 لاکھ سے زاید افراد کو متاثر کرچکی ہے جب کہ ساڑھے تین لاکھ سے زاید افراد اس وبا سے لقمہ اجل بن چکے ہیں۔

جمعہ کی شام کو بحیرہ روم کے سفارتی اسٹریٹ پروگرام کے ساتھ ایک انٹرویو میں مشرقی بحیرہ روم کے ریجنل ڈائریکٹر احمد المنظری نے نشاندہی کی کہ عالمی ادارہ صحت کرونا وبا کی دوسری اور تیسری لہر کی توقع رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ متاثرہ ممالک کو لاک ڈائون میں نرمی میں بہت سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا چاہیئے۔ پابندیوں کو مکمل طور پرختم کرنے سے مشکلات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

انہوں نے کرونا کے پھیلائو کی تحقیقات کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کو کام جاری رکھنے پر زور دیا۔

کرونا وبا کےپھیلائو کی تحقیقات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے المنظری کا کہنا تھا کہ ہم نے چین سے کہا ہے کہ وہ کرونا کی وبا پھوٹنے اور اس کے پھیلائو کے حوالے سے تحقیقات کرے تاہم عالمی ادارہ کسی ملک کو اپنے ماہرین کے ذریعے تحقیقات کرانے پرمجبور نہیں کرسکتا۔

خیال رہےکہ امریکا نے چین پر کرونا کی وبا دانستہ طورپر پھیلانے کا الزام عاید کیا ہے تاہم چین ان الزامات کو مسترد کرتا ہے۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تحقیقاتی ٹیم کو چین بھیجنے میں تاخیر کا ذمہ دار ڈبلیو ایچ او کو نہیں ٹھہرایا جانا چاہئے۔