.

ایران میں نومبر2019ء میں احتجاجی مظاہروں میں 225 افراد مارے گئے : وزیرداخلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے وزیر داخلہ نے اعتراف کیا ہے کہ گذشتہ سال نومبر میں حکومت مخالف احتجاجی تحریک کے دوران میں 225 افراد مارے گئے تھے۔

حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کم سے کم 50 فی صد اضافے کے خلاف ایران کے 50 سے زیادہ شہروں میں یہ احتجاجی مظاہرے 15 نومبر 2019ء کو شروع ہوئے تھے اور یہ دو ہفتے تک جاری رہے تھے۔

ایرانی سکیورٹی فورسز نے ان مظاہروں پر قابو پانے کے لیے ریاستی طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا تھا جس کے نتیجے میں بیسیوں افراد مارے گئے تھے لیکن ایرانی حکومت نے آدھا سال گزر جانے کے بعد بھی ہلاکتوں کے سرکاری اعداد وشمار جاری نہیں کیے ہیں۔

وزیر داخلہ عبدالرضا رحمانی فاضلی نے سرکاری ٹی وی سے نشر کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ '' مارے گئے 40 یا 45 لوگوں (یا 20 فی صد لوگوں) کو غیر معیاری ہتھیاروں سے ہلاک کیا گیا تھا۔

ان کے اس بیان کے مطابق ان مظاہروں کے دوران میں 200 سے 225 کے درمیان افراد مارے گئے تھے۔تاہم انسانی حقوق کے گروپوں نے تب کہا تھا کہ ان مظاہروں میں 300 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ برطانوی خبررساں ایجنسی رائیٹرز نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ اس احتجاجی تحریک میں قریباً ڈیڑھ ہزار ایرانی مارے گئے تھے۔

رحمانی فاضلی نے مجاہدین خلق ایسے حزب اختلاف کے گروپوں پر ان مظاہروں میں ملوث ہونے کا الزام عاید کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ شاہ نواز اور یہ گروپ ملک میں خانہ جنگی چھیڑنا چاہتے تھے۔

انھوں نے ان احتجاجی مظاہروں کے دوران میں انٹرنیٹ کی بندش کے فیصلے کا دفاع کیا ہے اور یہ دعویٰ کیا ہے کہ ''تمام امریکی اور حزب اختلاف کا میڈیا ،بہ شمول شاہ نواز ، مجاہدین خلق تنظیم اور داعش انٹرنیٹ کے ذریعے عسکری تربیت دے رہے تھے۔''

ایرانی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ سکیورٹی فورسز کو ''صبر وتحمل اور زیادہ سے زیادہ ضبط کا مظاہرہ کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ان مظاہروں کے دوران میں عوام کے ساتھ کوئی مسلح محاذ آرائی نہیں ہوئی تھی لیکن جب انھوں نے پولیس اسٹیشنوں پر حملے کیے تھے تو تب ان سے نبرد آزما ہونا چاہیے تھا۔''

عبدالرضا رحمانی فاضلی نے اپنے تئیں تو یہ دعویٰ کیا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے اس وقت ہی مظاہرین پر فائر کھولا تھا جب انھوں نے پولیس اسٹیشنوں پر حملے کیے تھے لیکن متعدد رپورٹس اور انٹرنیٹ پر پوسٹ کی گئی ویڈیوز کے مطابق سکیورٹی فورسز نے مظاہرے کرنے والے نہتے افراد پر مکانوں کی چھتوں سے گولیاں چلائی تھیں۔

امریکا نے 20 مئی کو ایرانی وزیر داخلہ پر پُرامن مظاہرین کے خلاف ریاستی طاقت کے استعمال اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزام میں پابندیاں عاید کردی تھیں۔انھوں نے امریکا کے اس فیصلے پر تنقید کی ہے۔