.

کرونا وائرس : امارت ابوظبی میں 2جون سے داخلے اور خروج پر پابندی عاید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابو ظبی اور اس سے ملحقہ شہروں میں کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے 2 جون سے ایک ہفتے تک شہریوں کی نقل وحرکت محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ابو ظبی کے میڈیا دفتر کے مطابق '' ابوظبی کی کووِڈ-19 کے لیے ایمرجنسی اور کرائسیس کمیٹی نے ابو ظبی پولیس اور دبئی کے محکمہ صحت کے تعاون سے امارت اوراس کے علاقوں (ابو ظبی ، العین اور الظفرا) میں شہریوں کے داخلے اور وہاں سے خروج پر پابندی عاید کر دی ہے۔اس کا آغاز 2 جون سے ہوگا اور یہ ایک ہفتے تک جاری رہے گی۔''

تاہم اہم شعبوں میں کام کرنے والے ملازمین ،اسپتال جانے کے خواہاں دائمی عوارض کا شکار مریض اور ضروری اشیاء کی حمل ونقل کا کام کرنے والے افراد اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے۔

یو اے ای نے گذشتہ ہفتے 30 مئی سے رات کے کرفیو میں رد وبدل کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ رات دس بجے سے صبح چھے بجے تک شہریوں اور مکینوں کو آزادانہ نقل وحرکت کی اجازت نہیں ہو گی۔اس دوران میں کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے قومی تطہیری پروگرام پر عمل درآمد کیا جارہا ہے۔ قبل ازیں قومی تطہیر پروگرام کے تحت امارت میں 24 گھنٹے کا کرفیو نافذ تھا۔

تاہم ابو ظبی میں کھانے پینے کی اشیاء فروخت کرنے والی دکانوں ، سپر مارکیٹوں اور دوا خانوں کو چوبیس گھنٹے کھلا رکھنے کی اجازت ہے۔اسی ماہ کے اوائل میں دبئی نے پانچ یا اس سے کم افراد کو ہوٹل بیچز پر جانے اور کھیلوں کی سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دے دی تھی۔ریستورانوں اور دکانوں کو سماجی فاصلہ برقرار رکھتے ہوئے کھول دیا گیا تھا لیکن انھیں اپنی گنجائش کے صرف تیس فی صد گاہکوں کو خدمات مہیا کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔

شاپنگ مالوں میں ازدحام سے بچنے کے لیے پارکنگ کی دستیابی صرف 25 فی صد تک محدود کردی گئی تھی۔بیوٹی سیلونوں کو بھی کھولنے کی اجازت دے دی گئی ہے لیکن وہاں گاہک پہلے سے وقت طے کرکے اور صرف زلف تراشی یا ناخن تراشی کے لیے جاسکتے ہیں۔

12 سال سے کم عمر بچوں اور 60 سال سے زیادہ ضعیف العمر افراد کے علاوہ پہلے سے مختلف عوارض میں مبتلا افراد کو عوامی مقامات اور شاپنگ مالوں میں جانے کی اجازت نہیں ہے۔