.

کرونا وائرس: سعودی عرب میں 23 افراد وفات پا گئے، 1877 نئے کیسوں کی تشخیص

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں گذشتہ 24 گھنٹے میں کرونا وائرس میں مبتلا 23 افراد وفات پاگئے ہیں اور 1877 نئے کیسوں کی تشخیص ہوئی ہے ۔ اب مملکت میں کل کیسوں کی تعداد 85261 ہوگئی ہے۔

سعودی وزارت صحت کے ترجمان ڈاکٹر محمد العبد العالی نے اتوار کے روز بتایا ہے کہ ساحلی شہر جدہ میں کرونا وائرس کے سب سے زیادہ کیس سامنے آئے ہیں اور وہاں 586 کیس ریکارڈ کیے گئے ہیں۔دارالحکومت الریاض میں 504 نئے کیسوں کی تشخیص ہوئی ہے۔دوسرے کیس مملکت کے دوسرے شہروں اور علاقوں سے رپورٹ ہوئے ہیں۔

ترجمان کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹے میں کووِڈ-19 کے 3559 مریض تن درست ہوگئے ہیں۔ یوں اب تک 62442 مریض صحت یاب ہوچکے ہیں جبکہ 503 افراد وفات پا چکے ہیں۔

سعودی وزیر صحت ڈاکٹر توفیق الربیعہ نے ہفتے کے روز العربیہ نیوز سے گفتگو میں بتایا تھا کہ ملک میں کرونا وائرس کا شکار ہونے والے 70 فی صد سے زیادہ مریض تن درست ہوچکے ہیں۔

ان کے بہ قول سعودی ماہرین نے کرونا وائرس کے علاج کے لیے پروٹو کول وضع کیے تھے اور ان پر عمل درآمد کی وجہ سے صحت یاب ہونے والے مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ’’ان پروٹو کول پر کرونا وائرس کے علاج اور طریق کار کے تعلق سے عالمی سطح پر رونما ہونے والی کسی بھی نئی پیش رفت کی روشنی میں نظرثانی کی جاتی ہے۔‘‘

وزیر صحت نے کہا کہ سعودی عرب میں گروپ 20 میں شامل دوسرے ممالک کے مقابلے میں کرونا وائرس سے اموات کی شرح انتہائی کم ہے جبکہ اس کے ہاں خلیج تعاون کونسل کے دوسرے رکن ممالک کے مقابلے میں کرونا کے مریضوں کی تعداد کافی زیادہ ہے۔

مملکت میں اس وَبا سے شرح اموات صرف 0۰6 فی صد ہے۔دوسری جانب جی 20 میں شامل امریکا اور برطانیہ ایسے بڑے ممالک کرونا کی وبا سے نمٹنے کے لیے کوشاں ہیں۔سعودی عرب نے کروناوائرس کے مریضوں کے علاج کے لیے صحت کے پروٹوکول پر سختی سے عمل درآمد کیا ہے اور بالکل ابتدا سے اس وبا کو پھیلنے سے روکنے کے لیے سخت انتظامی اقدامات کیے تھے۔اس نے اس وبا کے پھیلنے کے بعد اندرون اور بیرون ملک پروازوں پر پابندی عاید کردی تھی۔تمام بڑے شہروں میں 24 گھنٹے کا کرفیو نافذ کردیا تھا اور کاروباروں کو بند کردیا تھا۔