.

کرونا وَبا جلد ختم ہونے کی نہیں،ہمیں نیا طرز زندگی اختیار کرنا ہوگا:اماراتی عہدہ دار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات نے گذشتہ 24 گھنٹے میں کرونا وائرس کے 726 نئے کیسوں اور دو اموات کی تصدیق کی ہے۔ اب یو اے ای میں کرونا وائرس کے کیسوں کی کل تعداد 33896 ہوگئی ہے اور ہلاکتوں کی تعداد 262 ہوچکی ہے جبکہ ایک اعلیٰ حکومتی عہدہ دار نے کہا ہے کہ کرونا کی وَبا جلد ختم ہونے کی نہیں، ہمیں نیا طرز زندگی اختیار کرنا ہوگا۔

یو اے ای حکومت کی ترجمان ڈاکٹر آمنہ الشمسی نے ہفتے کے روز بتایا ہے کہ کرونا وائرس کے 449 مزید مریض تن درست ہوگئے ہیں اور ملک میں اب تک 17546 مریض صحت یاب ہوچکے ہیں۔

کروناو ائرس کے مریضوں کی تعداد میں کمی اور اس وبا کی رجعت کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں یو اے ای کے شعبہ صحت کی ترجمان ڈاکٹر فریدہ الحوسنی کا کہنا ہے:'' عمومی طور پر یہ کہنا مشکل ہے کہ کووِڈ-19 وائرس نے عالمی سطح پر پسپائی اختیار کرنا شروع کردی ہے کیونکہ اس ضمن میں بہت سے عوامل کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے اور یہ ایک سے دوسرے ملک میں مختلف ہوسکتے ہیں۔ان میں کیے گئے اقدامات ، صحت کی سہولتیں یا صلاحیتیں اور پیشگی حفاظتی تدابیر کی پاسداری شامل ہے۔''

انھوں نے کہا کہ '' بہت سے ممالک میں کیسوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے جبکہ دوسرے بہت سے ممالک میں بہتری آرہی ہے۔پھر ہم یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ عالمی ادارہ صحت ( ڈبلیو ایچ او) کے فراہم کردہ تازہ اعداد وشمار کے مطابق دنیا میں روزانہ رپورٹ ہونے والے کیسوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔''

ان کا کہنا تھا کہ جنوبی امریکا ، جنوب مشرقی ایشیا کے بعض ممالک اور مشرقِ اوسط کے خطے میں کروناوائرس کے متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔

ڈاکٹر فریدہ الحوسنی نے نیوز بریفنگ میں بتایا کہ جب کرونا ایک شخص سے دوسرے شخص میں منتقل ہوتا ہے تو کووِڈ-19 کی علامات کی شدت میں کمی ہوجاتی ہے لیکن اس کی وجوہ کی تصدیق نہیں ہوئی ہے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے کیونکہ اس کا انحصار ایک فرد کی قوتِ مدافعت پر بھی ہوسکتا ہے۔اگر وہ پہلے سے کسی دائمی مرض میں مبتلا ہے تو اس کی وجہ سے بھی اس کا مرض شدید نوعیت کا ہوسکتا ہے۔

نیا طرزِ زندگی

ڈاکٹر فریدہ الحوسنی کا کہنا تھا کہ '' ہم ایک نئے مرحلے میں رہ رہے ہیں اور ہمیں کووِڈ- 19 کا شکار ہونے کے خطرے کے امکانات کو محدود کرنے کے لیے پیشگی حفاظتی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔''

''ایسا سماجی فاصلہ اختیار کرکے ، باقاعدہ صفائی کے ذریعے اور گھر سے باہر نکلتے ہوئے ماسک پہن کرکیا جاسکتا ہے۔اس مرحلے میں زیادہ خطرے سے دوچار گروپوں کو زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ان میں ذیابطیس ، بلند فشار خون ، دمہ،نظام تنفس اور دل کے امراض کا شکار افراد شامل ہیں۔'' ان کا مزید کہنا تھا۔

ترجمان کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق یو اے ای میں زیادہ تر ایسے افراد کرونا وائرس کا شکار ہوئے ہیں جو پہلے سے مختلف متعدی امراض میں مبتلا تھے۔انھیں اب احتیاطی تدابیر کی زیادہ موثر انداز میں پاسداری کرنی چاہیے۔