.

امریکا:جارج فلائیڈ کی ہلاکت پرپُرتشدد ہنگامے جاری ، فلاڈلفیا میں 13 پولیس اہلکار زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے شہر منی پولس میں گذشتہ ہفتے پولیس کے زیر حراست سیاہ فام شہری جارج فلائیڈ کی ناگہانی موت پر پُرتشدد ہنگامے جاری ہیں۔ ریاست پنسلوینیا کے شہر فلاڈلفیا میں حکام کا کہنا ہے کہ ایک پُرامن احتجاجی مظاہرے نے تشدد کا رُخ اختیار کر لیا اور گھیراؤ جلاؤ کے نتیجے میں تیرہ پولیس افسر زخمی ہوگئے ہیں۔

پولیس کمشنر ڈینئیل آؤٹ لا کا کہنا ہے کہ مظاہرین نے پولیس کی چار گاڑیوں کو نذر آتش کردیاہے اور بعض دوسرے مقامات پر بھی انھوں نے آگ لگا دی ہے۔مظاہرین نے دکانوں کی کھڑکیوں کے شیشے توڑ دیے اور وہاں سے اشیاء لوٹ لی ہیں۔

مظاہرین نے فلاڈلفیا کے سابق میئر فرینک رِزو کے مجسمے پر رنگ پھیر دیا اور اس کی شکل بگاڑ دی۔ انھوں نے مجسمے کے نیچے آگ لگانے اور اسے گرانے کی بھی کوشش کی ہے۔

رِزو 1972ء سے 1980ء تک فلاڈلفیا کے میئر رہے تھے،ان کے حامی ان کی جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائیوں پر ان کی تعریف کرتے رہے ہیں لیکن ناقدین ان پر اقلیتوں سے امتیازی سلوک کے الزام عاید کرتے ہیں۔

فلاڈلفیا میں حکام نے ہنگاموں پر قابو پانے کے لیے ہفتے کی شب آٹھ بجے سے اتوار کی صبح سات بجے تک کرفیو نافذ کردیا تھا۔اس کرفیو کے بعد سوموار کو صورت حال قدے بہتر بتائی گئی ہے۔شہر میں لوٹ مار اور بلووں کے الزام میں متعدد افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

منی پولس میں اسی ہفتے پولیس کے تشدد سے دم توڑنے والے فلائیڈ کی ایک ویڈیو منظرعام پر آئی تھی۔اس کی گردن کو ایک پولیس افسر نے زمین پر لٹا کر اپنی ٹانگ تلے داب رکھا تھا۔فلائیڈ بعد میں دم توڑدیا گیا تھا اور اس کی موت کے ذمے دار پولیس افسر ڈیرک شاؤوین کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔اس پر جمعہ کو قتل کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔