.

جاپان کا اپنی سرحدیں کھولنے پر غور، ترکی اور روس میں کرونا سے متعلق پابندیوں میں نرمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جاپان میں حکام اُن چند محدود ممالک سے آنے والوں کے لیے اپنی سرحدیں دوبارہ کھولنے پر غور کر رہے ہیں جہاں کرونا وائرس کے کیسوں کے اندراج کی سطح کم ہے۔ جاپان نے اُن قیود اور پابندیوں میں بھی نرمی کا آغاز کر دیا ہے جو اس نے رواں سال کے گزرے ہوئے عرصے میں کرونا وائرس کی روک تھام کے لیے عائد کی تھیں۔ ادھر روس اور ترکی نے بھی کوویڈ-19 کے مریضوں کی تعداد میں کمی کے بعد اس حوالے سے عائد پابندیوں میں نرمی کا اعلان کیا ہے۔

جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو میں پیر کے روز سینیما ہاؤسز، اسپورٹس کلبز اور تجارتی مراکز کو دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔ میڈیا کے مطابق حکومت آنے والے مہینوں میں تھائی لینڈ، ویتنام، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ سے آنے والے مسافروں کے استقبال کی اجازت دینے کے حوالے سے منصوبہ بندی کر رہی ہے۔

آج پیر کے روز تک جاپان میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 17 کے قریب ہو چکی ہے۔ ان میں 900 افراد موت کا شکار ہوئے۔ جاپانی حکام نے رواں سال فروری سے ملک میں غیر ملکیوں کے داخلے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ یہ اقدام کرونا وائرس کے پھیلاؤ پر روک لگانے کے سلسلے میں کیا گیا۔

ادھر روس میں دارالحکومت ماسکو کے حکام نے پیر کے روز شہر کی آبادی کو نو ہفتوں کے بعد پہلی مرتبہ تفریح کی غرض سے باہر نکلنے کی اجازت دے دی۔ کرونا وائرس کے کیسوں میں کمی آنے کے بعد یہ عمومی گوشہ نشینی کے سخت اقدامات میں جزوی نرمی کا حصہ ہے۔

ذمے داران کا کہنا ہے کہ حکام کی جانب سے لوگوں کو ہفتے میں تین بار باہر نکلنے کی اجازت دی جائے گی۔ دنوں کا تعین گھروں کے پتوں کی بنیاد پر ہو گا۔ حکام کی جانب سے پیر کے روز خریداری کے مراکز اور زیادہ تر تفریحی مقامات کو دوبارہ کھولا جا رہا ہے۔

روس میں روزانہ کرونا کے ہزاروں کیسوں کا اندراج ہو رہا ہے اور دارالحکومت ماسکو اس وبا سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں سرفہرست ہے۔ تاہم حالیہ ہفتوں کے دوران اس متعدد وبا کے متاثرین کی تعداد میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔

ماسکو نے اتوار کے روز کرونا کے 2595 نئے کیسوں کے اندراج کا اعلان کیا۔ پھیلاؤ کے عروج کے دنوں میں یہ یومیہ تعداد تقریبا چھ ہزار تک پہنچ گئی تھی۔ روس میں کرونا کے متاثرین کی مجوعی تعداد 4 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ یہ دنیا بھر میں کرونا کے کیسوں کی تیسری بڑی تعداد ہے۔

دوسری جانب ترکی میں آج پیر کے روز سے ریستورانوں، قہوہ خانوں اور تفریحی مقامات کو دوبارہ کھولا جا رہا ہے۔ کرونا وائرس کے انسداد کے لیے عائد اقدامات میں نرمی کرتے ہوئے شہروں کے درمیان سفر پر پابندی بھی ختم کر دی گئی ہے۔

رجب طیب ایردوآن کی حکومت ملک میں عائد پابندیوں میں کئی ہفتوں سے بتدریج نرمی لا رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کنٹرول میں آ گیا ہے۔ ترکی میں اب تک اس وبائی مرض کے 1.6 لاکھ کیسوں کا اندراج ہو چکا ہے۔ ان میں 4500 سے زیادہ افراد موت کا شکار ہو گئے۔

پابندیوں اور سخت اقدامات میں نرمی کے باوجود 65 سے زیادہ اور 18 برس سے کم عمر افراد کی نقل و حرکت پر پابندی باقی رہے گی۔