.

عرب اتحاد نے یمنی حوثیوں کے سعودی عرب کی جانب چھوڑے دو ڈرون مار گرائے!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عرب اتحاد نے سوموار کے روز یمن سے ایران کے حمایت یافتہ حوثی شیعہ باغیوں کے سعودی عرب کی جانب چھوڑے گئے دو ڈرون مار گرائے ہیں۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق عرب اتحاد کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے بتایا ہے کہ دونوں بغیر پائیلٹ طیارے سعودی عرب کے شہر خمیس مشیط کے شہری علاقے کی جانب آرہے تھے۔خمیس مشیط سعودی عرب کے جنوب مغربی صوبہ عسیر میں ابھا شہر سے مشرق کی جانب واقع ہے۔

ترجمان نے کہا ہے کہ حوثی ملیشیا جان بوجھ کر سعودی عرب کے شہری علاقوں کی جانب ڈرون چھوڑ رہی ہے اور اس طرح اس نے بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی جاری رکھی ہوئی ہے۔

عرب اتحاد کا کہنا ہے کہ یمن کے حوثی باغیوں نے گذشتہ 48 گھنٹے میں جنگ بندی کی 241 خلاف ورزیوں کا ارتکاب کیا ہے۔عرب اتحاد نے حوثیوں کے اس دعوے کو بھی مسترد کردیا ہے کہ سعودی عرب نے قریباً 800 صومالیوں کو بے دخل کر کے یمن بھیج دیا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ حوثیوں کی کارروائیاں جنگ بندی کی صریح خلاف ورزی اور اپریل میں شروع کیے گئے کشیدگی میں کمی کے لیے عرب اتحاد کے اقدام کے بھی منافی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ عرب اتحاد حوثیوں کی جنگی صلاحیت پر کاری ضرب لگانے اور اس کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی انسانی قانون کے مطابق اقدامات جاری رکھے گا۔

واضح رہے کہ ایران کے حمایت یافتہ حوثی شیعہ باغیوں نے 2014ء میں یمن کے دارالحکومت صنعاء پر قبضہ کر لیا تھا اور منتخب صدر عبد ربہ منصور ہادی کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے خلاف مسلح بغاوت برپا کردی تھی۔

یمنی حکومت کی دعوت پر سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد نے خانہ جنگی کا شکار ملک میں مداخلت کی تھی اور وہ تب سے حوثی ملیشیا کے خلاف نبرد آزما ہے اور اس کی جنگی کارروائی کے نتیجے میں حوثی باغی اپنے زیر قبضہ بہت سے علاقوں سے پسپا ہوچکے ہیں اور وہاں اب یمنی حکومت کی عمل داری قائم ہوچکی ہے۔

حوثی ملیشیا وقفے وقفے سے سعودی عرب کے سرحدی شہروں کی جانب راکٹ اور ڈرون حملے کرتی رہتی ہے۔اس نے جون 2019ء میں ابھا کے ہوائی اڈے پر میزائل داغا تھا جس کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور سات زخمی ہوگئے تھے۔