.

کرونا وائرس : امارات ائیرلائن کو سابقہ مقامات پر پروازوں کی بحالی میں چار سال لگیں گے

طیاروں میں سفر کے دوران میں مسافروں کا جسمانی فاصلہ معاشی اور ماحولیاتی اعتبار سے قابل عمل نہیں:ٹِم کلارک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دبئی کی قومی فضائی کمپنی امارات ائیرلائن کے سبکدوش ہونےوالے صدر ٹِم کلارک نے کہا ہے کہ کرونا وائرس سے متاثرہ ان کی فضائی کمپنی کو اپنے تمام سابقہ مقامات اور نیٹ ورک پر پروازوں کی بحالی میں کم سے کم چار سال لگیں گے۔

الامارات (ایمریطس) کرونا وائرس کی وبا پھوٹنے سے قبل دنیا کے 83 ممالک میں 157 مقامات کے لیے پروازیں چلا رہی تھی۔مارچ میں اس نے اپنی بیشتر پروازیں معطل کردی تھیں ، طیارے گراؤنڈ کردیے تھے اور صرف چند ایک مقامات کے لیے محدود پیمانے پر پروازیں چلاتی رہی ہے۔

ٹِم کلارک نے سوموار کو ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ '' میرے خیال میں سال 2022/23 یا 2023/24 تک ہم چیزوں کو معمول پر آتا ہوا دیکھ سکیں گے۔امید ہے کہ تب تک امارات اپنے نیٹ ورک پر پروازیں چلا رہی ہوگی اور پہلے کی طرح کامیاب ہوچکی ہوگی۔''

امارات نے گذشتہ روز خبردار کیا تھا کہ وہ اپنی 35 سالہ تاریخ میں سب سے مشکل دور سے گزر رہی ہے۔اس نے اتوار کو کہا تھا کہ اس نے کرونا کی وبا کی وجہ سے اپنے بعض عملہ کو فالتو قرار دے دیا ہے۔

ٹِم کلارک نے کہا کہ''ہوابازی کی صنعت آیندہ سال موسم گرما میں بحال ہونا شروع ہوجائے گی لیکن اس کی شرط یہ ہے کہ کرونا کےعلاج کے لیے ویکسین 2021ء کے اوائل تک بڑے پیمانے پر دستیاب ہوجانی چاہیے۔''مسٹر کلارک اسی ماہ کمپنی کی صدارت سے سبکدوش ہورہے ہیں اور پھر وہ اس کے مشیر بن جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ آیندہ چند برسوں کے دوران میں فضائی سروس کی مانگ میں اضافہ ہوگا اور 2023 یا 2024ء تک ہم پروازوں کی تعداد میں اضافہ ملاحظہ کریں گے،الّا یہ کہ عالمی معیشت کسی اور بڑے صدمے سے دوچار نہیں ہوتی ہے۔

انھوں نے خبردار کیا ہے کہ طیاروں میں سفر کے دوران میں جسمانی فاصلہ معاشی اور ماحولیاتی اعتبار سے قابل عمل نہیں ہے کیونکہ اس کا مطلب آدھے خالی طیارے چلانا ہے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ فی الحال امارات مسافروں کو یہ ہدایت کرتی رہے گی کہ وہ پروازوں میں سفر کے وقت دستانے اور چہرے پر ماسک پہن کر رکھیں۔