.

سعودی عرب کا ورچوئل کانفرنس میں یمن کو 50 کروڑ ڈالر کی امداد دینے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے یمن کو مزید پچاس کروڑ ڈالر کی امداد دینے کا وعدہ کیا ہے۔ سعودی عرب نے یہ اعلان منگل کے روز اقوام متحدہ کے تعاون سے یمن کی امداد سے متعلق منعقدہ ورچوئل کانفرنس 2020ء کے دوران میں کیا ہے۔اس میں متعدد ممالک کے وزراء اور اعلیٰ عہدے دار شریک تھے۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق مملکت کی جانب سے مہیا کی جانے والی یہ امدادی رقم یمن میں انسانی ردعمل منصوبہ 2020ء اور کووِڈ-19 ردعمل منصوبہ کے لیے دی جائے گی ۔

سعودی عرب کے شاہی دیوان کے مشیر ڈاکٹر عبداللہ عبدالعزیز الربیعہ نے کانفرنس میں امداد دینے کا اعلان کیا ہے۔اس کانفرنس کا ہدف یمن کے لیے دو ارب 40 کروڑ ڈالر کی امداد اکٹھی کرنا ہے۔

انھوں نے کہا کہ سعودی عرب نے ہمیشہ دنیا کے ممالک اور عوام کے درمیان امن ، ہم آہنگی اور تعاون کے اصولوں کو ہمیشہ قبول کیا ہے۔اس نے انسانی بحرانوں کے ردعمل میں اپنی ذمے داریوں کو ادا کرتے ہوئے ہمیشہ غیر جانبدارانہ انداز میں امداد ومعاونت مہیا کی ہے تاکہ ان بحرانوں کے انسانی زندگیوں پر اثرات کو کم سے کم کیا جاسکے۔

ڈاکٹر الربیعہ نے بتایا ہے کہ یمن کے لیے اس نئی امداد میں سے 30 کروڑ ڈالر اقوام متحدہ کے اداروں اور تنظیموں کو مہیا کیے جائیں گے جبکہ باقی 20 کروڑ ڈالر شاہ سلمان انسانی امداد اور ریلیف مرکز کے لیے مختص کیے جائیں گے۔

جرمن وزیر مملکت برائے خارجہ امور نیلس اینین نے اپنے ملک کی جانب سے یمن کو انسانی امداد کی شکل میں ساڑھے 12 کروڑ یورو دینے کا اعلان کیا ہے۔برطانیہ نے اس ورچوئل کانفرنس میں یمن کو 16 کروڑ پاؤنڈز امداد دینے کا وعدہ کیا ہے۔