.

چین نے عالمی ادارہ صحت کو کرونا کی معلومات فراہم کرنے میں تاخیر کی تردید کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان چاؤ لی ژیان کا کہنا ہے کہ ان کے ملک پر یہ الزام قطعا درست نہیں ہے کہ اس نے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کو کرونا کے بارے میں معلومات فراہم کرنے میں دانستہ طور پر تاخیر کی۔ ترجمان نے یہ بات بدھ کے روز ایک پریس کانفرنس میں کہی۔

امریکا کی طرف سے الزام عائد کیا جاتا ہے کہ ڈبلیو ایچ او نے کرونا کے خطرات کو چین کے ساتھ مل کر مخفی رکھا۔ دوسری طرف رواں سال جنوری میں چین میں پھیلنے والے کرونا وائرس پر چین میں جلد قابو پانے کے حوالے سے عالمی ادارہ صحت کی جانب سے بیجنگ حکومت کی تحسین بھی بہت سے ممالک کے لیے پریشانی کا باعث بنی ہے۔

لیکن پردے کے پیچھے کہانی بہت مختلف ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق کرونا کے بارے میں معلومات فراہم کرنے میں چین کی طرف سے دانستہ طور پر تاخیر کی گئی۔ چین کے اس طرز عمل سے اقوام متحدہ کے عہدے داروں میں شدید مایوسی پائی جاتی ہے کیوں کہ ان کے پاس جان لیوا وائرس کے پھیلاؤ سے نمٹنے کے لیے ضروری اعداد و شمار موجود نہیں ہیں۔

در حقیقت چین نے اپنی تین سرکاری لیبارٹریوں کی معلومات کو مکمل طور پر ڈی کوڈ کرنے میں کامیابی کے باوجود جینیاتی نقشہ یا وائرس جینوم کی اشاعت کے لیے ایک ہفتے سے زیادہ کا انتظار کیا۔

خبر رساں ایجنسی کے ذریعے کیے گئے درجنوں انٹرویوز اور داخلی دستاویزات سے یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ چینی محکمہ صحت کے اندر معلومات کی کڑی نگرانی کا الزام عائد کیا جارہا ہے۔ چینی سرکاری لیبارٹریوں نے اس جینوم کو اس وقت تک جاری نہیں کیا جب تک کہ ایک اور لیبارٹری نے اسے 11 جنوری کو وائرس سے ماہر ویب سائٹ پر شائع نہیں کیا تھا۔

اس کے باوجود تنظیم نے جنوری میں منعقدہ داخلی اجلاسوں کے ریکارڈ کے مطابق چین نے مریضوں اور وائرس سے متاثرہ کیسز کے بارے میں تفصیلی اعداد و شمار کو کم سے کم مزید دو ہفتوں کے لیے پیش کرنا معطل کردیا تھا۔