.

کرونا وائرس:سعودی عرب میں 2171 نئے کیس ریکارڈ ، کل تعداد91 ہزار سے متجاوز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے بدھ کو کرونا وائرس کے 2171 نئے کیسوں کی تصدیق کی ہے اور اب کل کیسوں کی تعداد 91182 ہوگئی ہے۔

سعودی عرب میں کرونا وائرس کے کیسوں کی تعداد میں روزانہ اضافے کے باوجود تن درست ہونے والے مریضوں کی شرح 74 فی صد سے زیادہ ہے اور اب تک مذکورہ کل کیسوں میں سے 68159 افراد صحت یاب ہوچکے ہیں۔

سعودی عرب میں کووِڈ-19 سے اموات کی شرح بھی دوسرے ممالک کے مقابلے میں بہت کم ہے اور تین جون تک 579 اموات ہوئی ہیں۔ اس وقت کرونا وائرس کے 22444 فعال کیس ہیں اور ان میں 1321 کی حالت تشویش ناک ہیں۔

سعودی وزیر صحت ڈاکٹر توفیق الربیعہ نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ اس مہلک وائرس کے مریضوں کے علاج کے لیے وضع کردہ پروٹوکول پر عمل درآمد کی وجہ سے تن درست ہونے والوں کی شرح زیادہ اور اموات کی شرح کم ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’سعودی ماہرین کے وضع کردہ پروٹو کول وضع کی وجہ سے صحت یاب ہونے والے مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ان پروٹو کول پر کرونا وائرس کے علاج اور طریق کار کے تعلق سے عالمی سطح پر رونما ہونے والی کسی بھی نئی پیش رفت کی روشنی میں نظرثانی کی جاتی ہے۔‘‘

سعودی عرب نے کروناوائرس کی وبا کو پھیلنے سے روکنے کے لیے سخت انتظامی اقدامات کیے تھے۔اس نے اس وبا کے پھیلنے کے بعد اندرون اور بیرون ملک پروازوں پر پابندی عاید کردی تھی۔تمام بڑے شہروں میں 24 گھنٹے کا کرفیو نافذ کردیا تھا اور کاروباروں کو بند کردیا تھا لیکن اب بتدریج ان پابندیوں میں نرمی کی جارہی ہے یا انھیں مکمل طور پر ختم کیا جارہا ہے۔

سعودی حکومت نے حال ہی میں شہریوں اور مکینوں کو اندرون ملک اور صوبوں کے درمیان سفر کی اجازت دے دی ہے۔تھوک اور پرچون کی دکانوں اور شاپنگ مالوں کو دوبارہ کھولنے کی اجازت دے دی ہے لیکن شرط یہ عاید کی ہے کہ تمام ضروری احتیاطی تدابیر کی پاسداری کی جائے گی۔

وزیر صحت ڈاکٹر توفیق الربیعہ نے العربیہ سے گفتگو میں اس بات کی تصدیق کی تھی کہ حکومت کا مملکت میں دوبارہ لاک ڈاؤن نافذ کرنے یا مزید پابندیوں کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ تاہم فی الوقت عاید شدہ پابندیوں کے خاتمے کا انحصار حفاظتی احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد پر ہوگا۔

انھوں نے کہا :'' ہم ایک ہی کشتی کے سوار ہیں۔اگر ہم سب حفاظتی احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد کریں گے تو ہم محفوظ رہیں گے لیکن اگر کوئی شخص احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد نہیں کرتا ہے تو وہ ہمیں دوبارہ پابندیوں کی جانب لے جائے گا۔''

ان کا کہنا تھا کہ ’’سعودی عرب اس وقت کرونا کے بہترین دستیاب علاج کے حصول کے لیے کوشاں ہے اور اگر کوئی ویکسین دستیاب ہوتی ہے تو مملکت جتنا جلد ممکن ہوا،اس کو مہیّا کرے گی۔‘‘