.

یمنی حوثی ایرانی ہتھیاروں سے سعودی عرب پر حملے کررہے ہیں: وائٹ ہاؤس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے حوثی باغی ایران کے مہیا کردہ بغیر پائیلٹ طیاروں سے سعودی عرب پرحملے کررہے ہیں اور وہ یمن میں جنگ بندی کے لیے اقوام متحدہ کی اپیلوں پر کوئی کان نہیں دھر رہے ہیں۔

یہ بات وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کونسل نے بدھ کو ایک ٹویٹ میں کہی ہے۔

عرب اتحاد نے سوموارکو یمن سے ایران کے حمایت یافتہ حوثی شیعہ باغیوں کے سعودی عرب کی جانب چھوڑے گئے دو ڈرون مار گرائے تھے۔

عرب اتحاد کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے بتایا تھا کہ دونوں بغیر پائیلٹ طیارے سعودی عرب کے شہر خمیس مشیط کے شہری علاقے کی جانب آرہے تھے۔ترجمان کا کہنا تھا کہ حوثی ملیشیا جان بوجھ کر سعودی عرب کے شہری علاقوں کی جانب ڈرون چھوڑ رہی ہے اور اس طرح اس نے بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی جاری رکھی ہوئی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ حوثیوں کی کارروائیاں جنگ بندی کی صریح خلاف ورزی ہیں اور اپریل میں شروع کیے گئے کشیدگی میں کمی کے لیے عرب اتحاد کے امن اقدام کے بھی منافی ہیں۔ کرنل ترکی المالکی کا کہنا تھا کہ حوثیوں نے اب تک اس جنگ بندی کی 4455 خلاف ورزیاں کی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ عرب اتحاد حوثیوں کی جنگی صلاحیت پر کاری ضرب لگانے اور اس کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی انسانی قانون کے مطابق اقدامات جاری رکھے گا۔

حوثی ملیشیا وقفے وقفے سے سعودی عرب کے سرحدی شہروں کی جانب راکٹ اور ڈرون حملے کرتی رہتی ہے۔اس نے جون 2019ء میں ابھا کے ہوائی اڈے پر میزائل داغا تھا جس کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور سات زخمی ہوگئے تھے۔

وائٹ ہاؤس کی کونسل نے ایک اور ٹویٹ میں کہا ہے کہ سعودی عرب تو جنگ زدہ یمن کی امداد کے لیے کانفرنس کا انعقاد کررہا ہے جبکہ حوثیوں نے یمنی عوام کے لیے ناگزیر انسانی امداد کی تقسیم میں رخنہ ڈالنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

سعودی عرب نے اقوام متحدہ کے زیر اہتمام منگل کو یمن کے لیے ایک ورچوئل امدادی کانفرنس کی میزبانی کی تھی۔اس میں مختلف ممالک نے یمن میں انسانی امدادی سرگرمیوں کے لیے ایک ارب 35 کروڑ ڈالر کی امداد دینے کے وعدے کیے ہیں۔

سعودی عرب نے اس کانفرنس میں ساڑھے 52 کروڑ ڈالر کی امداد دینے کا وعدہ کیا ہے۔یہ امدادی رقوم اقوام متحدہ کے تحت اداروں اور عالمی تنظیموں کے ذریعے یمنی عوام میں تقسیم کی جائیں گی۔واضح رہے کہ وہ گذشتہ پانچ سال کے دوران میں عالمی خوراک پروگرام کے تحت غربت زدہ یمنی عوام کے لیے سب سے زیادہ امداد دینے والا ملک ہے۔