.

کرونا وائرس کا جانی نقصان کم کرنے کی کوئی دوائی نہیں: عالمی ادارہ صحت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عالمی ادارہ صحت کی طرف سےجاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ابھی تک ایسی کوئی دوا سامنے نہیں آئی جس کی مدد سے کرونا کی وبا کا شکار ہونے والے افراد کی جانیں بچائی جا سکیں۔

ڈبلیو ایچ او کی طرف سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دوسری طرف کرونا جیسی پراسرار اور جان لیوا بیماری سے لاکھوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ اس بیماری کی روک تھام کے لیے پوری دنیا کی حکومتیں اور دوا ساز کمپنیاں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ ابھی تک کسی دوائی کو کرونا کے علاج کے لیے مفید نہیں قرار دیا جاسکا ہے۔ ہائیڈروکسی کلورکین کو کرونا کے بیماروں کے علاج کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا مگر پچیس مئی کے بعد اس دوائی کا استعمال بھی معطل کردیا گیا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس اڈھانوم گبیریوس نے ایک بیان میں کہا کہ کلوروکین یا اس سے ملتے جلتے فارمولے سے تیار کردہ ادوایات سے کرونا کے علاج میں کسی قسم کی مدد نہیں مل سکتی بلکہ اس نوعیت کی ادویات مزید نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق پوری دنیا میں کرونا کی وبا کی وجہ سے لاک ڈائون میں نرمی کی کوششیں جاری ہیں۔ عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ کرونا کی وبا کے دوسرے ممکنہ حملے کے بارے میں قبل از وقت کچھ نہیں کہا جاسکتا تاہم اگرکرونا نے ایک بار پھر یلغار کی تو پہلے کی نسبت زیادہ تباہ کن ہوگی۔