.

کرونا کی ویکسین اس وبا کو ختم کرنے کے لیے کافی نہیں : طبّی ماہرین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اس وقت دنیا بھر کے کئی ممالک اور طبی ادارے جلد از جلد کرونا وائرس کی ویکسین تیار کرنے کے لیے متعدد تجربات کرنے میں مصروف ہیں۔

امریکی چینل "فوكس" کے مطابق اگرچہ بہت سے لوگوں کو گمان ہے کہ مذکورہ ویکسین انہیں کرونا کی مہلک وبا سے بچانے والی ثابت ہو گی۔ تاہم صحت کے شعبے سے تعلق رکھنے والے ماہرین نے باور کرایا ہے کہ کوویڈ-19 کی ویکسین کی تیاری اپنی حد تک اس وبا کے خاتمے کے لیے کافی نہیں۔

عربی روزنامے الشرق الاوسط کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ کرونا کی وبا پر حتمی قابو پانے کے لیے ویکسین سے مربوط 4 عوامل کی دست یابی لازم ہے۔ یہ عوامل درج ذیل ہیں :

1) اثر پذیری : کیا ویکسین عمر بھر کے لیے قوت مدافعت فراہم کرے گی ؟

بعض محققین نے تصدیق کی ہے کہ وہ ایسی ویکسین پر کام کر رہے ہیں جو انسان کی قوت مدافعت کو سینی ٹائز کر دے گی۔ اس کامطلب ہوا کہ ویکسین لگوانے والا شخص ہمیشہ کے لیے اس ممکنہ متعدی مرض سے محفوظ ہو جائے گا۔ دوسری جانب بعض محققین کا کہنا ہے کہ وائرس کے حوالے سے خلیوں میں تیزی سے تبدیلی کا تناسب ،،، ایسی کارگر ویکسین تیار کرنے کا امکان کم کر دے گا جس کی اثر پذیری کا عرصہ دراز ہو۔ ماہرین کے مطابق ہو سکتا ہے کہ بعض لوگوں کے اندر موجود مدافعتی نظام بنیادی طور پر کسی بھی ویکسین کا مثبت رد عمل نہ دے۔

2) وقت : کرونا کی ویکسین تک پہنچنے میں کتنا عرصہ درکار ہو گا ؟

وقت اور مدت ابھی تک واضح نہیں ،،، اس میں کئی ماہ بلکہ کئی برس لگ سکتے ہیں۔ جب بھی ویکسین کی تیاری میں تاخیر ہوئی تو یہ عالمی ممالک کی جانب سے فیصلوں اور احتیاطی اقدامات پر اثر انداز ہو گی۔ دنیا بھر میں حکومتیں اور نجی کمپنیاں کم سے کم وقت میں ویکسین کی تیاری یقینی بنانے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہی ہیں۔ محققین ریکارڈ وقت میں کرونا کی ویکسین تک پہنچ جانے کے حوالے سے پُر امید ہیں۔ تاہم ویکسینز کی تیاری اور ان سے متعلق پیش رفت کی تاریخ سے ظاہر ہوتا ہے کہ کرونا کی ویکسین کی تیاری کا عمل طویل اور پریشان کر دینے والا ہو سکتا ہے۔ مثلا گلے کے غدود کے ورم کی ویکسین تیار کرنے میں چار سال لگ گئے۔ اسی طرح بعض دیگر امراض کی ویکسین کی تیاری میں دس سال سے زیادہ کا عرصہ لگا۔

3) تقسیم : کیا دنیا کے تمام ممالک کرونا کی ویکسین حاصل کر لیں گے ؟

اس امر کو یقینی بنانے کے لیے اربوں کی تعداد میں خوراک تیار کرنے کی ضرورت ہو گی۔ اس مقصد کے لیے حکومتوں اور نجی سیکٹر کی جانب سے وسیع پیمانے پر سرمایہ کاری کی ضرورت ہو گی۔ تمام لوگوں میں ویکسین کی تقسیم بڑے پیمانے پر بین الاقوامی رابطہ کاری کی متقاضی ہو گی۔ کیا تمام ممالک ویکسین کی تیاری اور تقسیم کے طریقہ کار پر متفق ہو جائیں گے؟ بلکہ اندیشہ تو یہ ہے کہ ویکسین تیار کرنے والے بعض ممالک اسے دوسروں کو نہیں دیں گے۔

4) صحت عامہ : ویکسین تیار ہونے تک ہم احتیاطی اقدامات کا سلسلہ جاری رکھ سکیں گے ؟

کرونا وائرس کی ویکسین تک پہنچنے میں غالبا ایک طویل وقت لگ سکتا ہے۔ اس بات کے پیش نظر مذکورہ وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کیے جانے والے کئی موجودہ طبی اقدامات کی اس وقت تک ضرورت رہے گی جب تک کرونا کی قابل اعتماد ویکسین تیار نہیں ہو جاتی۔ میری لینڈ یونیورسٹی کے میڈیکل کالج میں ویکسین کی تیاری سے متعلق مرکز کی خاتون طبی ماہر میگن پیٹرک کے مطابق ویکسین کی تیاری تک عالمی ممالک کو مطلوبہ احتیاطی طبی اقدامات پر عمل پیرا رہنا چاہیے۔ ان میں گوشہ نشینی ، ماسک پہننا اور سماجی فاصلے کے قواعد و ضوابط کو برقرار رکھنا شامل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ پر روک لگانے سے آبادی کے درمیان ویکسین کی اثر پذیری مضبوط بنائی جا سکتی ہے۔