.

ایرانی عدلیہ کے سابق نائب سربراہ کے خلاف بدعنوانیوں کے الزام میں مقدمے کی سماعت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی عدلیہ کے سابق اعلیٰ عہدہ دار اکبر طبری اور ان کے ساتھ اکیس شریک ملزموں کے خلاف اتوار کو دارالحکومت تہران میں مقدمے کی سماعت شروع ہوگئی ہے۔ ان پر بدعنوانیوں ، منی لانڈرنگ اور انصاف کی تجارت کے الزام میں مقدمہ چلایا جارہا ہے۔

اکبر طبری ایرانی عدلیہ کے انتظامی امور کے سابق نائب سربراہ رہ چکے ہیں۔ان کے خلاف مقدمے کی کارروائی سرکاری ٹیلی ویژن پر براہ راست نشر کی گئی ہے۔

ایرانی عدلیہ کی سرکاری خبررساں ایجنسی میزان آن لائن کے مطابق اکبر طبری کے خلاف عاید کرد فرد جرم میں کہا گیا ہے کہ’’وہ ایران کے سینیر عہدے داروں کے خلاف انصاف کی فراہمی میں حائل ہوئے تھے۔اس مقصد کے لیے انھوں نے اپنے دفتر میں ایک جرائم پیشہ گروہ تشکیل دے رکھا تھا۔وہ ملزموں کے خلاف مقدمات کے تصفیے کا مرکز بن چکا تھا۔‘‘

ان سمیت بائیس مدعاعلیہان کے خلاف تہران کی فوجداری عدالت کے پانچویں چیمبر میں مقدمہ چلایا جارہا ہے۔اس کے صدرجج حسن بابئی ہیں۔

اکبر طبری ایران کی عدلیہ کے سربراہ محمود ہاشمی شہرودی کے دور میں مالی امور کے ڈائریکٹر رہے تھے۔محمودی شہرودی 1999ء سے 2009ءتک ایرانی عدلیہ کے سربراہ رہے تھے۔ان کے بعد آیت اللہ صادق آمولی لاریجانی اس منصب پر فائز ہوئے تھے اور وہ 2019ء تک عدلیہ کے سربراہ رہے تھے۔ان کے دور میں اکبر طبری کو انتظامی امور کا ڈائریکٹر بنا دیا گیا تھا اور پھر وہ عدلیہ کے انتظامی امور کے نائب سربراہ رہے تھے۔

مارچ 2019ء میں ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے صادق لاریجانی کی جگہ ابراہیم رئیسی کو عدلیہ کا سربراہ مقرر کیا تھا اور انھیں بدعنوانیوں کے خاتمے کی ہدایت کی تھی۔

ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی ایرنا کے مطابق ابراہیم رئیسی نے اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد طبری کو برطرف کردیا تھا اور اس کی کوئی خاص وجہ بیان نہیں کی تھی۔بعد میں عدلیہ کے ترجمان غلام حسین اسماعیلی نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ اکبر طبری کو جولائی 2019ء میں گرفتار کر لیا گیا تھا اور یہ کہا تھا کہ ''اس سے عدلیہ کی کرپشن کے خلاف جنگ میں سنجیدگی ظاہر ہوتی ہے۔''

ابراہیم رئیسی کے حکم پر بدعنوانیوں کے الزام میں متعدد ججوں کو گرفتار کر لیا گیا تھا اور اب ان کے خلاف مقدمات چلائے جارہے ہیں۔ایرانی عدلیہ نے حال ہی میں پارلیمان کے دو ارکان کو ملک کی آٹو مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کے الزام میں قصور وار قرار دے کر 61 ماہ قید کی سزا سنائی ہے۔

واضح رہے کہ بدعنوانیوں کے خلاف اعداد وشمار جمع کرنے والی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنے حالیہ کرپشن انڈیکس میں ایران کو دنیا کے 198 ممالک میں 146ویں نمبر پر قراردیا ہے۔