.

بھارت اور چین سرحدی علاقے میں جاری کشیدگی پُرامن طریقے سے حل کرنے پرمتفق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت اور چین نے سرحدی علاقے میں حال ہی میں پیدا ہونے والی مسلح کشیدگی کو پُرامن طریقے سے حل کرنے سے اتفاق کیا ہے۔دونوں ملکوں کی مسلح افواج کے کمانڈروں کے درمیان اعلیٰ سطح کی ایک ملاقات میں یہ اتفاق رائے کیا گیا ہے۔

چین اور بھارت کی افواج کے درمیان حالیہ ہفتوں کے دوران میں سرحدی علاقے میں متعدد جھڑپیں ہوئی ہیں۔مئی میں بھارت کے زیر انتظام لداخ کے علاقے میں دونوں ملکوں کی فوجوں کے درمیان دوبدو لڑائی ہوئی تھی۔

بھارت کی وزارت خارجہ نے اتوار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ '' طرفین نے سرحدی علاقوں میں دونوں ملکوں میں پہلے سے طے شدہ مختلف دو طرفہ سمجھوتوں کے مطابق صورت حال کو پُرامن طریقے سے حل کرنے سے اتفاق کیا ہے۔''

اس کا کہنا ہے کہ بھارت اور چین کے کمانڈروں نے دنیا کی آبادی کے لحاظ سے دوبڑی اقوام کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے لیے ''جلد حل'' کی ضرورت پر زوردیا ہے۔

دونوں ملکوں کے فوجی کمانڈروں کے درمیان سرحدی علاقے میں حالیہ جھڑپوں کے بعد چوشل مولڈو کے علاقے میں یہ پہلی ملاقات ہےاور سِکم میں جھڑپوں کے بعد اعلیٰ سطح پر یہ پہلا رابطہ ہے۔

بھارتی بیان کے مطابق '' طرفین سرحدی علاقوں میں صورت حال اور امن وسلامتی کو یقینی بنانے کے لیے فوجی اور سفارتی روابط جاری رکھیں گے۔''

9 مئی کو ریاست سِکم کے انتہائی بلندی پر واقع سرحدی علاقے میں بھارتی اور چینی فوجیوں کے درمیان دوبدو لڑائی ہوئی تھی اور انھوں نے ایک دوسرے پر پتھراؤ کیا تھا جس کے نتیجےمیں فریقین کے متعدد فوجی زخمی ہوگئے تھے۔

ان ہی دنوں میں بھارتی حکام نے یہ الزام عاید کیا تھا کہ چینی فوجی لداخ کے علاقے میں سرحدی لکیر عبور کرکے آگے آگئے تھے۔بھارت نے اس کے بعد علاقے میں مزید فوجی نفری تعینات کردی تھی۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور چینی صدر شی جین پنگ گذشتہ دو سال کے دوران میں بین الاقوامی کانفرنسوں میں شرکت کے موقع پر دوطرفہ تعلقات کو بہتر بنانے پر تبادلہ خیال کرتے رہے ہیں اور انھوں نے سرحدی علاقے میں دونوں ملکوں کی فوجوں کے درمیان ابلاغی روابط کو مزید مضبوط بنانے سے اتفاق کیا تھا۔

چین اور بھارت کے درمیان 3500 کلومیٹر (2200 میل) طویل سرحد ہے لیکن دشوار گذار پہاڑی علاقہ ہونے کی وجہ سے اس کی مناسب طریقے سے حد بندی نہیں ہوئی ہے اور دونوں ملکوں ہی غیر شناختہ سرحدی علاقوں پر اپنا حق جتلاتے رہتے ہیں۔

بعض بھارتی مبصرین کے مطابق بھارت سرحدی علاقے میں سڑکیں اور فضائی پٹی تعمیر کررہا ہے۔ وہ چین کے بیلٹ اور روڈ اقدام کے ردعمل میں یہ تعمیرات کررہا ہے اور اس وجہ سے دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی پیدا ہوئی ہے۔

واضح رہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان 1962 سے سرحدی علاقے میں کشیدگی چلی آرہی ہے۔تب ان کے درمیان شمال مشرق میں واقع ریاست اروناچل پردیش پر تنازع پر باقاعدہ جنگ لڑی گئی تھی۔