.

سعودی عرب :کرونا وائرس کے کیسوں کی تعداد ایک لاکھ سے متجاوز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں گذشتہ 24 گھنٹے میں کرونا وائرس کے 3045 نئے کیسوں کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد مملکت میں اس مہلک وائرس کا شکار ہونے والے مریضوں کی تعداد ایک لاکھ سے متجاوز ہوگئی ہے۔

سعودی وزارت صحت نے گذشتہ دو روز میں تین ہزار سے زیادہ کیسوں کی اطلاع دی ہے۔اتوار کو کووِڈ-19 میں مبتلا مزید 36 مریض وفات پا گئے ہیں اور اب متوفیوں کی کل تعداد 712 ہوگئی ہے۔

وزارت صحت نے کرونا وائرس کا شکار مزید 1026 مریضوں کے تن درست ہونے کی بھی اطلاع دی ہے۔اس طرح اب تک کل 101914 مریضوں میں سے 72817 شفایاب ہوچکے ہیں۔

سعودی عرب میں کرونا وائرس کے حالیہ رجحانات کے مطابق دارالحکومت الریاض میں سب سے زیادہ 717 کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔اس کے بعد مکہ مکرمہ میں 623 اور جدہ میں 351 کیسوں کا اندراج ہوا ہے۔مشرقی شہر الدمام میں بھی کرونا کے کیسوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور وہاں محکمہ صحت کے حکام نے 257 نئے کیسوں کی تصدیق کی ہے۔

سعودی وزارت داخلہ نے ہفتے کے روز جدہ میں سہ پہر تین بجے سے صبح چھے بجے تک دوبارہ کرفیو نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔یہ کرفیو شہر میں کرونا وائرس کے کیسوں کی تعداد میں اضافے کے پیش نظر نافذ کیا گیا ہے۔

جدہ میں سرکاری اور نجی شعبے کے دفاتر اور کام کی جگہوں پر ملازمین کی حاضری پر پابندی لگا دی گئی ہے اور مساجد میں پنج وقتہ نمازوں کی ادائی بھی ایک مرتبہ پھرمعطل کردی گئی ہے۔یہ پابندیاں 20 جون تک نافذ العمل رہیں گی اور دفاتر اور کام کی جگہوں پر ملازمین حاضر نہیں ہوں گے۔

سعودی عرب کے باقی علاقوں میں حکام معمول کے حالات کی بحالی کے لیے تین مراحل پر مبنی منصوبے پر عمل پیرا ہیں۔اس وقت دوسرے مرحلے پر عمل کیا جارہا ہے۔شہریوں اور مکینوں کو صوبوں کے درمیان سفر کی اجازت دے دی گئی ہے اور انھیں صبح چھے بجے سے رات آٹھ بجے تک غیر کرفیو کے اوقات میں بھی آزادانہ نقل وحرکت کی اجازت ہے۔

حکومت نے دفاتر اور کام کی جگہوں پر ملازمین کے حاضر ہونے پر عاید پابندی بھی ختم کردی ہے اور اب وزارتوں ، سرکاری اداروں اور نجی شعبے کی کمپنیوں کے ملازمین کو اپنے دفاتر میں حاضر ہونے کی اجازت دے دی گئی ہے لیکن انھیں سخت پیشگی حفاظتی تدابیر پر عمل کرنا ہوگا۔

تاہم ان عمومی ہدایات کا مکہ مکرمہ پر اطلاق نہیں ہوتا ہے اور وہاں ابھی مکمل لاک ڈاؤن نافذ ہے۔