.

لیبیا: قومی اتحاد کی حکومت نے مصری صدر کا ’قاہرہ امن منصوبہ‘ مسترد کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کی قومی اتحاد کی حکومت نے مصری صدر عبدالفتاح السیسی کا جنگ زدہ ملک میں جنگ بندی کے لیے پیش کردہ قاہرہ امن منصوبہ مسترد کردیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اقوام متحدہ کی تسلیم شدہ لیبیا کی جی این اے حکومت نے مصری صدر کی جنگ بندی کی تجویز مسترد کردی ہے اور اس کے تحت فورسز نے اتوار کو جنرل خلیفہ حفتر کے زیر قیادت لیبی قومی فوج (ایل این اے) کے خلاف ساحلی شہر سِرت سمیت مختلف شہروں میں حملے جاری رکھے ہوئے تھے۔

مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے ہفتے کے روز لیبی قومی فوج کے سربراہ جنرل خلیفہ حفتر سے ملاقات کی تھی اور اس کے بعد لیبیا میں 8 جون سے جنگ بندی کے ایک منصوبہ کا اعلان کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ لیبیا کی سلامتی مصر کی سلامتی ہی کی توسیع ہے۔

مصری صدر نے لیبیا میں جنگ بندی کے لیے اپنے اس سیاسی اقدام کو’’قاہرہ اقدام‘‘ کا نام دیا اور کہا کہ اس سے جنگ زدہ ملک میں معمولاتِ زندگی کی بحالی کی راہ ہموار ہوگی۔انھوں نے بحران کے حل کے لیے فوجی حربے استعمال کرنے پر خبردار کیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ لیبیا میں جاری بحران کو سیاسی طریقے سے ہی حل کیا جاسکتا ہے۔لیبیا کے تمام فریقوں سے کہا گیا ہے کہ وہ جنگ بندی میں حصہ لیں اور جنگ بندی کی رہ نماہدایات کے تحت تمام غیرملکی جنگجوؤں کو لیبیا سے نکلنا ہوگا۔

خلیفہ حفتر کے زیر قیادت قومی فوج کی لیبیا کی قومی اتحاد کی حکومت کی فورسز سے طرابلس پر کنٹرول کے لیے گذشتہ کئی ماہ سے لڑائی ہورہی ہے۔

جی این اے کو ترکی کی حمایت حاصل ہے اور ترکی پر ہزاروں شامی جنگجوؤں کو لیبیا میں لڑائی کے لیے بھیجنے کا الزام ہے۔وہ اس وقت طرابلس حکومت کے شانہ بشانہ خلیفہ حفتر کی فورسز کے خلاف لڑرہے ہیں۔

شام کے شمال مغربی صوبہ ادلب سے بے گھر ہونے والی ایک خاتون اُم خالد نے ہفتے کے روز العربیہ کے سسٹر چینل الحدث کو بتایا تھا کہ ان کے بیٹوں کو ترغیب وتحریک کے ذریعے لڑنے کے لیے لیبیا بھیج دیا گیا ہے۔ان سے یہ کہا گیا تھا کہ انھیں اچھی رقم مہیا جائے گی جو ان کے خاندان کی کفالت کے لیے کافی ہوگی۔

اُم خالد نے بتایا کہ ان کے بیٹے نے ان سے یہ کہا ہے:’’ کسی کو بھی کسی صورت میں لیبیا نہ آنے دیں۔لیبیا میں صورت حال اب زندگی اور موت والی بن چکی ہے۔میرے بعد کسی کو بھی لیبیا نہ آنے دیں۔یہ سب جھوٹ تھا ،ہمیں کوئی رقم نہیں دی گئی ہے۔‘‘