تُونس :خاتون سیاسی لیڈر کا الاخوان المسلمون کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

تُونس کے ایک بڑے پارلیمانی بلاک کی خاتون سربراہ نے ملک میں مذہبی سیاسی تحریک الاخوان المسلمون کو سرکاری طور پر ایک دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

تُونس کی آزاد دستوری پارٹی کی سربراہ عبیر موصی نے سوموار کو پارلیمان میں اس ضمن میں ایک درخواست جمع کرائی ہے اور اس میں کہا ہے کہ الاخوان المسلمون کو تُونس میں دہشت گرد تنظیم قرار دیا جائے اور اس کی ہرطرح کی سرگرمیوں پر پابندی عاید کی جائے۔

عبیر موصی نے دارالحکومت تُونس میں نیوز کانفرنس میں بتایا:ان کی درخواست میں حکومت سے یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ الاخوان المسلمون کو سرکاری طور پر دہشت گرد تنظیم قرار دے اور جو کوئی بھی تُونسی شہری یا سیاست دان اس تنظیم سے وابستہ ہے،اس کو انسداد دہشت گردی قانون کے تحت ’دہشت گرد مجرم‘ قراردیا جائے۔

انھوں نے دعویٰ کیا :’’یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ تُونس کے بہت سے سیاسی لیڈر الاخوان المسلمون کے ارکان کی قیادت میں بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ سرگرمیوں میں ملوّث ہیں۔یہ تنظیمیں ہلاکتوں اور بم دھماکوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔‘‘

موصی نے ان تنظیموں کی قیادت پر اپنی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کے لیے بیرون ملک سے رقوم لینے کا الزام عاید کیا ہے۔اس کے علاوہ انھوں نے منی لانڈرنگ اور مالیاتی دہشت گردی کے دھندے بھی شروع کررکھے ہیں۔ان کے بہ قول یہ تمام سرگرمیاں توُنس کی قومی سلامتی کے لیے ایک خطرہ ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں