.

احتیاطی تدابیر پرعمل پیرا نہ ہونے سے کرونا کے کیس اور اموات بڑھ رہی ہیں:سعودی وزارتِ صحت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں لوگوں نے کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے پیشگی حفاظتی اور احتیاطی تدابیر کو نظرانداز کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہواہے جس کی وجہ سے مملکت میں کووِڈ-19 کے فعال کیسوں کی تعداد اور اموات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

یہ بات سعودی وزارت صحت کے ترجمان ڈاکٹر محمد العبدالعالی نے منگل کے روز ایک نیوز بریفنگ میں کہی ہے۔ انھوں نے شہریوں اور مکینوں پر زوردیا ہے کہ وہ سماجی فاصلے کے ضابطے اور پیشگی حفاظتی احتیاطی تدابیر کی پاسداری کریں۔

انھوں نے کہا کہ سعودی عرب میں کووِڈ-19 کے 40 فی صد کیس وزارت صحت کی رہ نما ہدایات کی پاسداری نہ کرنے کا نتیجہ ہیں۔

انھوں نے وضاحت کی ہے کہ بیسیوں نوجوان مرد وخواتین نے گھروں سے باہر نکلتے حفاظتی احتیاطی تدابیر کی پاسداری نہیں کی، باہر گھوم پھر کر جب وہ اپنے گھروں کو لوٹے تو ان کا خاندان کے ارکان سے میل ملاپ ہوا،ان میں ضعیف العمر اور بچے بھی شامل تھے اور اس طرح وہ دوسرے لوگوں میں کرونا وائرس منتقل کرنے کا ذریعہ بنے ہیں۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ مملکت میں کرونا وائرس کے کیسوں کی تعداد میں حالیہ دنوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ضعیف العمر افراد یا دائمی امراض میں مبتلا افراد اس نئے مہلک وائرس کا بھی شکار ہورہے ہیں۔

انھوں نے لوگوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ گھروں سے باہر عوامی مقامات میں بڑے اکٹھ یا اجتماعات سے گریز کریں،سماجی فاصلہ اختیار کریں، اپنے ہاتھوں کو باقاعدگی سے دھوتے رہیں اور گھروں سے باہر ہمہ وقت ماسک پہن کررکھیں۔

سعودی وزارتِ داخلہ نے گذشتہ جمعہ کو خبردار کیا تھا کہ اگر دارالحکومت الریاض میں کیسوں کی تعداد میں اسی طرح مسلسل اضافہ جاری رہا تو پھر شہر میں دوبارہ سخت پابندیاں نافذ کی جاسکتی ہیں۔وزارت داخلہ نے جدہ میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں اضافے کے پیش نظر 6جون کو دوبارہ سہ پہر تین بجے سے صبح چھے بجے تک کرفیو نافذ کردیاتھا اور یہ 20 جون تک نافذ العمل رہے گا۔

ڈاکٹر محمد العبد العالی کا کہنا تھا کہ الریاض اور جدہ میں کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے احتیاطی تدابیر اور پابندیوں کی سخت پاسداری کی ضرورت ہے۔