.

امریکا میں بلوائیوں کے شمالی شام میں کرد یونٹس کے ساتھ تعلقات ہیں : ایردوآن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن کا کہنا ہے کہ امریکا میں ہنگامہ آرائی کی کارروائیوں کے پیچھے جن افراد کا ہاتھ ہے ، اُن کے شمالی شام میں کرد یونٹوں کے ساتھ روابط ہیں۔ ایردوآن نے یہ بات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فون پر بات چیت کے دوران کہی۔

پیر کے روز ترک ایوان صدارت سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ ایردوآن نے بات چیت میں ٹرمپ کے سامنے "اس اندیشے کا اظہار کیا کہ امریکا میں تشدد اور لوٹ مار کی کارروائیوں کے ذمے دار عناصر کا شمالی شام میں کردستان ورکرز پارٹی کے زیر انتظام کُرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس کے ساتھ تعلق ہے"۔ ایردوآن نے مذکورہ جماعت کو "دہشت گرد" قرار دیا۔

بیان میں مزید بتایا گیا کہ ایردوآن اور ٹرمپ نے دو طرفہ تعلقات اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا۔ ان میں لیبیا کا بحران شامل ہے۔

یاد رہے کہ ترکی اور امریکا "کردستان ورکرز" پارٹی کو دہشت گرد تنظیم کا درجہ دے چکے ہیں۔

انقرہ حکومت شام میں "کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس" کو "کردستان ورکرز پارٹی" کا ونگ قرار دیتی ہے۔ مذکورہ یونٹس "سیرین ڈیموکریٹک فورسز" (ایس ڈی ایف) کا ایک اہم حصہ ہیں۔ ایس ڈی ایف شام میں واشنگٹن کے نمایاں ترین حلیفوں میں سے ہے اور اسے امریکا کی حمایت حاصل ہے۔

امریکا میں دو ہفتوں سے شدید عوامی احتجاج دیکھا جا رہا ہے۔ اس دوران پرتشدد کارروائیاں، ہنگامہ آرائی اور بلوے اور پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی سامنے آئیں۔ یہ احتجاج اور عوامی مظاہرے امریکی ریاست مینی سوٹا میں پولیس کے ہاتھوں ایک سیا فام شہری جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے بعد شروع ہوئے۔