.

سعودی عرب کا نظامِ صحت کرونامریضوں کے مؤثرعلاج کی صلاحیت کا حامل ہے:کابینہ

شاہ سلمان کے زیر صدارت سعودی کابینہ کا ورچوئل اجلاس ، مملکت اور دنیا بھر میں کرونا وائرس کی تازہ صورت حال پر غور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے زیر صدارت منگل کے روز وزارتی کونسل کا ورچوئل اجلاس ہوا۔اس میں کرونا وائرس کے تعلق سے مملکت اور دنیا بھر میں ہونے والی تازہ صورت حال کا جائزہ لیا گیا ہے اور کابینہ اس اعتماد کا اظہار کیا ہے کہ مملکت کا صحت کا نظام کووِڈ-19 کے مریضوں کے مؤثر علاج کی صلاحیت کا حامل ہے۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق شاہ سلمان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کرونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد انھیں شہریوں اور مکینوں کی صحت کے بارے میں تشویش لاحق ہے اور حکام اس وبا سے ہنگامی بنیادوں پر نمٹنے کے لیے کوشاں ہیں۔

انھوں نے عوام پر زوردیا کہ وہ کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے پیشگی حفاظتی تدابیر پر عمل درآمد کریں تاکہ ہرکسی کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور اس وائرس کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔

کابینہ نے شاہ سلمان کی مخصوص شعبوں کی بحالی کے لیے مدد ومعاونت کو سراہا جس کے نتیجے میں اب ان شعبوں میں حفاظتی تدابیر کو اختیار کرتے ہوئے دوبارہ کام اور سرگرمیاں بحال ہورہی ہیں۔

ایس پی اے کے مطابق کابینہ نے مملکت میں معمول کے حالات کی بتدریج بحالی کے لیے طے شدہ مراحل اور منصوبہ بندی کا جائزہ لیا۔ معمولاتِ زندگی کی بحالی کے لیے سعودی عرب نے تین مراحل مقرر کیے ہیں اور اس وقت دوسرے مرحلے پر عمل درآمد کیا جارہا ہے۔

کابینہ نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ وہ کاروباروں اور معمول کے کاموں کی بحالی کے لیے حکومت کے نافذ کردہ قواعد وضوابط کی پیروی کریں۔دوسری صورت میں کرونا وائرس مزید پھیل سکتا ہے۔اس نے تمام متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ صورت حال کی کڑی نگرانی جاری رکھیں۔

کابینہ نے واضح کیا کہ سعودی عرب کا صحت کا نظام مریضوں کے مؤثرعلاج کی صلاحیت کا حامل ہے۔جہاں کہیں ضرورت پیش آئی تو قیادت کی جانب سے مالیاتی اور اخلاقی معاونت مہیا کی جائے گی۔

سعودی کابینہ نے کرونا وائرس کے علاج میں جانوں کے نذرانے پیش کرنے والے طبی عملہ کے ارکان کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ ان کی قربانوں کو فراموش نہیں کیا جائے گا جن کی بدولت مملکت میں تمام شہریوں اور مکینوں کے تحفظ اور صحت کو یقینی بنایا جاسکا ہے۔