.

کرونا وائرس: سعودی عرب میں روزانہ 20 لاکھ ماسکوں کی تیاری ،ڈھائی کروڑ دستیاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے روزانہ 20 لاکھ ماسک تیار کیے جارہے ہیں اور اس وقت ملک میں ڈھائی کروڑ ماسک دستیاب ہیں۔

یہ بات سعودی عرب کی فوڈ اور ڈرگ اتھارٹی کے ترجمان تیسیر المفرجی نے ایک انٹرویو میں بتائی ہے۔ سعودی عرب نے کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے عوامی مقامات پر چہرے پر ماسک پہننا لازم قرار دیا ہے۔اس کے پیش نظر ماسکوں کی مانگ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

سعودی گزٹ کے مطابق ترجمان نے بتایا کہ مملکت کی نو فیکٹریوں میں اس وقت چہرے کے ماسک تیار کیے جارہے ہیں تاکہ آبادی کی طلب کو پورا کیا جاسکے۔ سعودی عرب کی اس وقت آبادی قریباً تین کروڑ 37 لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔

قبل ازیں حکام نے جدہ کے شاہ عبدالعزیز بین الاقوامی ہوائی اڈے پر سوموار کو ایک کروڑ 40 لاکھ ماسکوں کی کھیپ پہنچنے کی اطلاع دی تھی۔سعودی فوڈ اور ڈرگ اتھارٹی کے مغربی سیکٹر کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر موسیٰ بن سلیمان الفیفی نے بتایا کہ یہ ماسک دواخانوں اور مارکیٹوں میں تقسیم کیے جائیں گے۔

ابھی یہ واضح نہیں کہ یہ ماسک المفرجی کے اعلان کردہ ڈھائی کروڑ ماسکوں میں شامل ہیں یا یہ ان کے علاوہ ہیں۔

سعودی عرب میں ماسکوں کی تعداد میں اضافے کی وجہ سے شہری اور مکین حکومت کی عاید کردہ پابندی کی پاسداری کر سکیں گے۔سعودی حکومت نے عوامی مقامات پر ماسک نہ پہننے والوں پر ایک ہزار ریال جرمانہ عاید کرنے کا اعلان کررکھا ہے۔

سعودی وزارت صحت کے ترجمان ڈاکٹر محمد العبد العالی کا کہنا ہے کہ ''جو کوئی بھی گھر سے باہر جانا چاہتا ہے تو وہ کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے ماسک ضرور پہن کررکھے۔ اپنے مُنھ اور ناک کو ڈھانپ کررکھے۔اس مقصد کے لیے کپڑے کا بھی استعمال کیا جاسکتا ہے اور اس طرح لوگ ایک دوسرے سے بچ سکتے ہیں۔

سینی ٹائزر اور ذاتی حفاظتی آلات کی تیاری

سعودی عرب میں 69 فیکٹریوں میں کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے سینی ٹائزر اور جراثیم کش مواد بھی تیار کیا جارہا ہے۔ تیسیر المفرجی کے مطابق ان فیکٹریوں میں ہر ہفتے 34 لاکھ لیٹر سے زیادہ سینی ٹائزر تیار کرنے کی صلاحیت ہے۔

مملکت کی تین فیکٹریوں میں ذاتی حفاظتی آلات (پی پی ای) تیار کیے جارہے ہیں۔ان میں دستانے، پلاسٹک کے اوورکوٹ دوسری اشیاء شامل ہیں۔ان تینوں فیکٹریوں میں اب تک مجموعی طور پر 10 کروڑ 30 لاکھ پی پی ای آلات تیار کیے جاچکے ہیں۔

ترجمان نے بتایا کہ حکام نے مختلف علاقوں کے 38 ہزار دورے کیے ہیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ آیا لوگ حفاظتی احتیاطی تدابیر کی پاسداری کررہے ہیں۔ ان چھاپا مار کارروائیوں کے دوران میں 2721 خلاف ورزیاں پکڑی گئی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں