.

امریکا سعودی عرب کی سرحد پر حزب اللہ کا چَربا نہیں چاہتا: برائن ہُک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا سعودی عرب کی سرحد پر ایک اور حزب اللہ کو نہیں دیکھنا چاہتا ہے اور وہ یمن کے حوثی باغیوں کو ایران سے رقوم کی ترسیل روکنے کے لیے کام کررہا ہے۔

یہ بات امریکا کے خصوصی نمایندہ برائے ایران برائن ہُک نے العربیہ سے ایک خصوصی انٹرویو میں بتائی ہے۔انھوں نے کہا کہ امریکا اس وقت ایران کے خلاف سہ جہتی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔اس کے تحت پابندیوں کے نفاذ ،اس کو الگ تھلگ کرنے اور فوجی سدّ جارحیت پرعمل کیا جارہا ہے۔

برائن ہُک نے کہا کہ ایران میں سخت گیروں اور اعتدال پسندوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ایران جنوری میں القدس فورس کے کمانڈر میجر جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد سے عراق پر اپنا اثرورسوخ کھو چکا ہے۔

انھوں نے یمن کی حوثی ملیشیا کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اس گروپ کو ایران کی جانب سے فنڈنگ کی روک تھام کے لیے دباؤ بڑھا رہا ہے۔انھوں نے واضح کیا کہ امریکا سعودی سرحد پر حزب اللہ کا ایک چربا نہیں چاہتا ہے۔ان کا اشارہ یمنی حوثیوں کی جانب تھا۔

انھوں نے شام سے متعلق کہا کہ امریکا اس وقت تک اس جنگ زدہ ملک کی تعمیرِنو میں کوئی مدد نہیں کرے گا، جب تک وہاں سے تمام ایرانی فورسز اور ملیشیاؤں کا انخلا نہیں ہوجاتا۔

امریکی ایلچی کا کہنا تھا کہ حزب اللہ کی بڑے پیمانے پر بدعنوانیوں کا اس وقت لبنانی عوام خمیازہ بھگت رہے ہیں اور وہ مختلف مسائل سے دوچار ہیں لیکن امریکا لبنان کی اس شیعہ ملیشیا پر عاید کردہ پابندیوں کے نتائج سے مطمئن ہے۔