.

ترکی : ماؤں کی بچوں سمیت گرفتاری کی وڈیو سے غم و غصّے کی لہر !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی میں پولیس کی جانب سے شہریوں کے گھروں پر دھاوے اور ان کی گرفتاری کی وڈیو نے شدید تنقید کا دروازہ کھول دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر اس وڈیو کلپ کو شیئر کرنے والے انسانی حقوق کے کارکنان کے مطابق سیکورٹی اہل کاروں نے ماؤں کو ان کے بچوں سمیت گرفتار کیا۔ وڈیو کلپ میں متعدد مرد اور خواتین کو گرفتار کیے جانے کے بعد حراستی مراکز لے جاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

ترکی میں کردوں کی حامی "ڈیموکریٹک پیپلز پارٹی" سے تعلق رکھنے والے رکن پارلیمںٹ عمر فاروق جرجلی اولو نے وڈیو کلپ کے مناظر کے حوالے سے کہا کہ انہوں نے دروازہ توڑ دیا جس پر گھرانے کی آواز آئی کہ یہاں بچہ ہے مگر ان لوگوں نے کچھ نہ سُنا۔ جرجلی نے مزید کہا کہ "یہ ہے ترکی میں ماؤں کی گرفتاری کی صورت .. ہم روزانہ پولیس اسٹیٹ کی کارستانیوں کا مشاہدہ کرتے ہیں جو قانون کی دھجیاں اڑا رہی ہے"۔ جرجلی اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر وقتا فوقتا سیاسی قیدیوں کی کہانیاں پوسٹ کرتے ہیں۔

ترکی کی پولیس نے بدھ کے روز 63 افراد کو گرفتار کیا جن میں زیادہ تر خواتین ہیں۔ ان تمام افراد پر اپوزیشن کی مذہبی شخصیت فتح اللہ گولن سے تعلق کا الزام ہے۔

مقامی میڈیا کے مطابق پولیس نے منیفر تکین نامی ایک خاتون کو اس کے 6 ماہ کے بچے کے ساتھ گرفتار کر لیا۔

یاد رہے کہ جرجرلی اولو جو ترکی کی پارلیمنٹ میں انسانی حقوق کمیٹی کے رکن بھی ہیں ، انہوں نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کے ساتھ ایک سابقہ انٹرویو میں انکشاف کیا تھا کہ ترکی کی جیلوں میں 800 سے زیادہ بچے اور نومولود اپنی گرفتار ماؤں کے ساتھ موجود ہیں۔ جرجلی کا کہنا تھا کہ اتنی بڑی تعداد میں بچوں کا ہونا دنیا کے دیگر ممالک میں جیلوں کے مقابلے میں کافی ضخیم عدد ہے۔ انہوں نے مذکورہ خواتین اور بچوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔

سال 2016 میں صدر رجب طیب ایردوآن کے خلاف ناکام فوجی انقلاب کی کوشش کے بعد سے ہزاروں افراد جیلوں میں پڑے سڑ رہے ہیں۔ حکام نے ان افراد پر حکومت گرانے کی کوشش میں شریک ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔ گرفتار شدگان میں ارکان پارلیمنٹ، پارٹیوں کے رہ نما، صحافی، اساتذہ اور دیگر افراد شامل ہیں۔