.

امریکی قونصل خانے کے ترک ملازم کو دہشت گردی کے الزام میں 9 سال قید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اناطولیہ ایجنسی کے مطابق ترکی کی ایک عدالت نے استنبول میں امریکی قونصل خانے کے ایک تُرک ملازم کو جمعرات کے روز دہشت گردی کے الزام میں تقریبا نو سال قید کی سزا سنائی گئی۔

استنبول کی ایک عدالت نے متین توپوز کو فتح اللہ گلن کی مدد کرنے کے الزام میں جرم ثابت ہونے پر آٹھ سال اور نو ماہ قید کی سزا سنائی۔ ترک حکومت فتح اللہ گولن کو سنہ 2016 کے بغاوت کا "ماسٹر مائنڈ" قرار دیتی ہے تاہم وہ اس الزام کی سختی سے تردید کرتے ہیں۔

ڈوگان نیوز ایجنسی نے اسی خبر کے حوالے سے مزید کہا ہے کہ عدالت نے ملزم کے جوڈیشل ریمانڈ کی مدت میں بھی مزید توسیع کا حکم دیا ہے۔

انقرہ میں قائم امریکی سفارت خانے کے مطابق امریکی حکومت نے توپوز کو "بغیر کسی قابل اعتبار ثبوت" کی سزا سنائے جانےپر سخت مایوسیکا اظہار کیا ہے۔

امریکی سفارتخانے نے ایک بیان میں کہا کہ استنبول کی عدالت کے فیصلے کے بعد ہم بہت مایوس ہوئے ہیں۔ عدالتی فیصلے کے لیے کوئی قابل اعتبار ثبوت نہیں۔ امید ہے کہ توپوز سے یہ الزام جلد ساقط ہوجائے گا۔

قابل ذکر ہے کہ توپوز کیس نے گذشتہ برسوں میں ترکی اور امریکا کے باہمی تعلقات خراب کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔