.

سعودی آرامکو پر داغے جانے والے میزائل ایرانی تھے : اقوام متحدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے اپنی رپورٹ میں عالمی سلامتی کونسل کو آگاہ کیا ہے کہ گذشتہ برس سعودی عرب میں آرامکو کمپنی کی تیل کی دو تنصیبات اور ایک بین الاقوامی ہوائی اڈے کو جن کروز میزائلوں سے حملے کا نشانہ بنایا گیا وہ "ایرانی ساخت" کے تھے۔ یہ پیش رفت کئی ماہ کی تحقیقات کے بعد سامنے آئی ہے۔

رپورٹ میں گوتیرس نے مزید بتایا کہ اس حملے سے متعلق ہتھیاروں اور مواد میں شامل بہت سے ٹکڑوں کو امریکا نے نومبر 2019 اور فروری 2020 میں قبضے میں لیا تھا۔ یہ تمام "ایرانی ساخت" کے تھے۔

مزید یہ کہ ان میں سے بعض کے ڈیزائن کی خصوصیات ایران میں ایک تجاری ادارے کی جانب سے تیار کی گئی مصنوعات سے ملتی جلتی ہیں یا پھر ان پر فارسی ٹریڈ مارک موجود ہے۔ ان میں سے کچھ کو فروری 2016 سے اپریل 2018 کے درمیان ایران منتقل کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق یہ اشیاء ممکنہ طور پر ایسے طریقے سے منتقل کی گئیں جو سلامتی کونسل کی 2015 کی قرار داد کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتا۔ یہ قرار داد تہران اور عالمی طاقتوں کے درمیان طے پائے گئے جوہری معاہدے سے متعلق ہے۔

یاد رہے کہ روئٹرز نیوز ایجنسی نے نومبر 2019 میں اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا تھا کہ سعودی آرامکو کمپنی کو نشانہ بنانے کے لیے کیا جانے والا حملہ ایرانی رہبر اعلی علی خامنہ ای کے حکم پر کیا گیا۔

اس وقت سامنے آنے والی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات پر حملے سے چار ماہ قبل ایرانی سیکورٹی ذمے داران تہران میں شدید حفاظتی انتظامات کے ساتھ ایک کمپاؤنڈ میں اکٹھا ہوئے۔ حاضرین میں ایرانی پاسداران انقلاب کی اعلی قیادت بھی شامل تھی۔ مئی میں ہونے والے اس اجلاس کا مرکزی موضوع یہ تھا کہ تاریخی جوہری معاہدے سے علاحدگی اور ایران پر دوبارہ اقتصادی پابندیاں عائد کرنے پر امریکا کو کس طرح مزہ چکھایا جائے۔ واشنگٹن کے ان دونوں اقدامات نے ایران کی کمر توڑ کر رکھ دی۔

اجلاس میں ایران کے سینئر عسکری ذمے داران سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی تجویز زیر بحث لائے۔ بعد ازاں کم از کم چار مزید اجلاسوں میں اس کارروائی پر غور کیا گیا۔