.

امریکی محکمہ خارجہ کا لیبیا کے بارے میں امن اقدام پر وائٹ ہاؤس سے متضاد پیغام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا میں قیام امن کے لیے مصر کے نئے منصوبہ کے بارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور محکمہ خارجہ کے متضاد بیانات سامنے آئے ہیں۔

مصر کے ایوان صدر نے گذشتہ بدھ کو ایک بیان میں کہا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عبدالفتاح السیسی سے ٹیلی فون پر بات چیت میں لیبیا میں جنگ بندی کے لیے ان کی تجویز کا خیرمقدم کیا تھا۔

مصر کا یہ کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے نئے امن اقدام کی حمایت کی ہے جبکہ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے اقوام متحدہ کے زیر نگرانی لیبیا کے متحارب دھڑوں کے درمیان مذاکرات کی بحالی کا خیرمقدم کیا ہے۔

مشرقِ اوسط میں امریکا کے اعلیٰ سفارت کار ڈیوڈ شینکر کا کہنا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی قیادت میں امن عمل کی حمایت کرتے ہیں لیکن ساتھ ہی انھوں نے مصر کے امن اقدام کو سراہا ہے اور کہا ہے کہ یہ لیبیا میں اتحاد و یگانگت کے لیے سود مند ثابت ہوسکتا ہے۔

مسٹر شینکر نے لیبیا کے متحارب فریقوں پر زوردیا ہے کہ وہ شہریوں کا تحفظ کریں اور اسکولوں ، آب رسانی کے نظام اور تیل کی تنصیبات سمیت ڈھانچے کا مزید نقصان ہونے سے بچائیں۔انھوں نے دونوں فریقوں پر زوردیا تھا کہ وہ جنگ بندی کے لیے مذاکرات کریں تا کہ کسی اور ملک کو لیبیا میں مداخلت کا موقع نہ ملے۔

انھوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہمارے خیال میں اقوام متحدہ کی قیادت میں عمل اور برلن عمل جنگ بندی کے لیے مذاکرات کے ایک حقیقی تعمیری فریم ورک ہوسکتے ہیں۔‘‘

جرمنی کے زیر اہتمام جنوری میں برلن میں لیبیا میں جنگ بندی کے لیے کانفرنس منعقد ہوئی تھی۔ اس میں لیبیا کے متحارب فریقوں کے علاوہ وہاں دخیل قوتوں کے لیڈروں نے شرکت کی تھی۔

مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے 6 جون کو لیبی قومی فوج کے سربراہ جنرل خلیفہ حفتر سے ملاقات کی تھی اور اس کے بعد لیبیا میں 8 جون سے جنگ بندی کے ایک منصوبہ کا اعلان کیا تھا۔ انھوں نے اپنے اس منصوبہ کو’’قاہرہ اقدام‘‘ کا نام دیا اور کہا کہ اس سے جنگ زدہ ملک میں معمولاتِ زندگی کی بحالی کی راہ ہموار ہوگی۔انھوں نے بحران کے حل کے لیے فوجی حربے استعمال کرنے پر خبردار کیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ لیبیا میں جاری بحران کو سیاسی طریقے سے ہی حل کیا جاسکتا ہے۔لیبیا کے تمام فریقوں سے کہا گیا ہے کہ وہ جنگ بندی میں حصہ لیں اور جنگ بندی کی رہ نماہدایات کے تحت تمام غیرملکی جنگجوؤں کو لیبیا سے نکلنا ہوگا۔

لیبیا کی قومی اتحاد کی حکومت (جی این اے) اور اس کے اتحادی ترکی نے مصری صدر کے جنگ بندی کے لیے پیش کردہ قاہرہ امن منصوبے کو مسترد کردیا تھا جبکہ سعودی عرب ، روس ، اردن ، بحرین اور متحدہ عرب امارات نے اس امن اقدام کا خیرمقدم کیا تھا۔

جی این اے کو ترکی کی حمایت حاصل ہے اور ترکی پر ہزاروں شامی جنگجوؤں کو لیبیا میں لڑائی کے لیے بھیجنے کا الزام ہے۔وہ اس وقت طرابلس حکومت کے شانہ بشانہ خلیفہ حفتر کی فورسز کے خلاف لڑرہے ہیں۔

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق روس سے تعلق رکھنے والے اجرتی جنگجو خلیفہ حفتر کی مدد ومعاونت کررہے ہیں۔انھیں یواے ای اور سعودی عرب کی بھی حمایت حاصل ہے۔

واضح رہے کہ امریکا اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ وزیراعظم فائزالسراج کی حکومت کو تسلیم کرتا ہے لیکن صدر ٹرمپ نے گذشتہ سال خلیفہ حفتر سے ٹیلی فون پر بات چیت میں ان کی تعریف کی تھی۔