.

ترکی میں سینیر خاتون صحافی کو جاسوسی کےالزام میں جیل میں ڈال دیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی میں حکومت نے ایک سینیر خاتون صحافیہ اور دانشور میسریلدز کو جاسوسی کے الزام میں گرفتار کرنے کے بعد جیل میں ڈال دیا ہے۔ اپوزیشن سے تعلق رکھنے والی صحافیہ کی ترکی میں گرفتاری کا یہ پہلا واقعہ نہیں۔

میسر یلدز کی گرفتاری سے واضح ہوتا ہے کہ ترکی میں گرفتاریوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے۔ وقتا فوقتا ترک حکومت سیاسی مخالفین، انسانی حقوق کارکنوں، صحافیوں اور امریکا میں خود ساختہ جلا وطن رہ نما فتح اللہ گولن گروپ سے تعلق رکھنے والے افراد کو دہشت گردی کے الزامات میں حراست میں لیتی اور گرفتار افراد کے خلاف عدالتوں میں مقدمات چلائے جاتے ہیں۔

اناطولیہ نیوز ایجنسی نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ ترک پولیس نے ایک ممتاز صحافیہ نے "فوجی اور سیاسی جاسوسی" کے الزام میں مقدمے کی سماعت تک جیل میں ڈال دیا ہے۔

انقرہ نیوز کی چیف ایڈیٹر میسر یلدز کو پیر کو گذشتہ سوموار کو حراست میں لیا گیا تھا۔ اس پر حکومت اور فوج کی جاسوسی کا الزام عاید کیا گیا ہے اور اسی الزام میں اس پر مقدمہ چلایا جائے گا۔

اناطولیہ کے مطابق حکام نے انقرہ میں "ٹیلی 1" چینل کے نمائندے اسماعیل ڈوکل کو رہا کردیا ہے۔ ڈوکل کو میسر یلدز کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا اور ان سے پوچھ گچھ کی گئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ ایک آرمی آفیسر جس کو ان کے ساتھ حراست میں لیا گیا تھا کو بھی تفصیلات بتائے بغیر قید کردیا گیا تھا۔

نامہ نگاروں نے میسریلدز کے وکیل سے بات کرنے اور ان کا موقف جاننے کی کوشش کی تاہم ان سے رابطہ نہیں ہوسکا۔

خیال رہے کہ جولائی 2016 میں ترکی میں بغاوت کی ناکام کوشش کے بعد سے انقرہ حکومت امریکا میں مقیم فتح اللہ گولن نیٹ ورک کے مشتبہ افراد کے خلاف مہم چلا رہا ہے۔ ترکی نے اس نیٹ ورک پر بغاوت میں ملوث ہونے کا الزام عاید کیا ہے۔ اب تک 77،000 سے زیادہ کو جیل میں ڈالا گیا اور تقریبا 150،000 سرکاری ، فوج اہلکار اور دیگر ملازمین کو برطرف یا معطل کردیا گیا۔