.

عرب اتحاد نے نجران کے نزدیک یمنی حوثیوں کا داغا بیلسٹک میزائل مارگرایا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد نے ہفتے کی صبح یمن سے نجران کی جانب داغے گئے یمنی حوثیوں کے ایک بیلسٹک میزائل کو مار گرایا ہے۔

سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق عرب اتحاد کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے بتایا ہے کہ تباہ شدہ میزائل کا ملبہ گرنے سے بعض شہری معمولی زخمی ہوگئے ہیں لیکن اس سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔

ایس پی اے کے مطابق یہ بیلسٹک میزائل یمن کے شمالی شہر صعدہ سے سعودی عرب کے جنوب مغرب میں واقع سرحدی شہر نجران کی جانب داغا گیا تھا۔

واضح رہے کہ یمن کے حوثی باغی گذشتہ مہینوں کے دوران میں وقفے وقفے سے سعودی عرب میں مختلف شہروں اور شہری مقامات کی جانب بیلسٹک میزائل داغتے رہے ہیں۔ان میں ایک میزائل حملے میں ابھا کے ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

کرنل ترکی المالکی نے بتایا کہ 13 جون تک حوثیوں کے سعودی عرب کی جانب داغے گئے 312 بیلسٹک میزائلوں کو ناکارہ بنایا گیا ہے۔

سعودی عرب کی شاہی فضائیہ نے مارچ میں یمن سے حوثی ملیشیا کے دارالحکومت الریاض اور جنوبی شہر جازان کی جانب داغے گئے دو بیلسٹک میزائل مار گرائے تھے۔

تب کرنل ترکی المالکی نے کہا تھا کہ ’’دہشت گرد حوثی ملیشیا اور ایرانی سپاہ پاسداران انقلاب کی جانب سے اس مشکل وقت میں بیلسٹک میزائل داغنے سے ان سے امن وسلامتی کو لاحق خطرے کی عکاسی ہوتی ہے۔اس جارحانہ حملے سے مملکت سعودی عرب اور اس کے شہریوں یا مکینوں کو برسرزمین نشانہ نہیں بنایا گیا بلکہ مشکل کی اس گھڑی میں دنیا کے اتحاد اور یک جہتی کو ہدف بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔‘‘

سعودی عرب کی دفاعی صنعت نے اس سال کے اوائل میں کہا تھا کہ ڈرون کے مقابلے کے لیے ایک نئے نظام کی تیاری پر کام جاری ہے تاکہ سعودی عرب کی اہم تنصیبات اور فوجی اڈوں کو ڈرون اور میزائل حملوں سے محفوظ بنایا جاسکے۔