.

کرونا وائرس کی دوسری لہر سے کوئی خوف نہیں: وائٹ ہاؤس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وائٹ ہاؤس کے اقتصادی مشیر لاری کوڈلو کا کہنا ہے کہ امریکی انتظامیہ کرونا کی دوسری لہر اٹھنے کے حوالے سے کوئی تشویش محسوس نہیں کر رہی۔

امریکا کی متعدد ریاستوں میں پابندیوں کو نرم کر دیا گیا ہے۔ معاشی سرگرمیوں کی جانب بتدریج واپسی سامنے آ رہی ہے۔ اس دوران کرونا وائرس کی دوسری لہر پھیلنے کے حوالے سے خبردار کیا جا رہا ہے۔

امریکی اخبار "وال اسٹریٹ جرنل" کے مطابق قومی اقتصادی کونسل کے سربراہ کوڈلو نے یہ بیان سرمایہ کاری کے ایک بینک کے صارفین کے لیے منعقد ورچوئل اجلاس کے دوران دیا۔

دوسری جانب امریکا میں صحت کے شعبے کے ذمے داران نے زور دیا ہے کہ کوویڈ-19 کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سماجی فاصلے اور دیگر حفاظتی تدابیر کا سلسلہ جاری رکھا جائے۔ ذمے داران نے خبردار کیا ہے کہ اس وبائی مرض کے کیسوں میں کثرت کی صورت میں امریکا کو دوبارہ سے سخت پابندیاں عائد کرنے کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔

ادھر امریکی وزیر خزانہ اسٹیون منوچن کا کہنا ہے کہ امریکا کرونا وائرس کے انسداد کے لیے کوئی نیا لاک ڈاؤن نافذ نہیں کرے گا۔ جمعرات کے روز امریکی چینل "CNBC" کو دیے گئے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ "ہم معیشت کو بند نہیں کر سکتے .. میں سمجھتا ہوں کہ ہم یہ بات جان چکے ہیں کہ معیشت کی بندش مزید نقصانات کا سبب بنتی ہے"۔

یاد رہے کہ امریکا میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس کے سبب مزید 839 اموات کا اندراج ہوا ہے۔ اس طرح ملک میں اب تک اس وبائی مرض میں مبتلا ہو کر مرنے والوں کی مجموعی تعداد 114613 ہو گئی ہے جو دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے۔ یہ بات جونز ہوپکنز یونیورسٹی کی جانب سے جمعے کی شام مقامی وقت کے مطابق رات 8:30 بجے جاری اعداد و شمار میں بتائی گئی۔ مذکورہ یونیورسٹی امریکا میں کرونا وائرس سے متعلق متاثرین اور اموات کے اعداد و شمار کا ریکارڈ رکھتی ہے۔ اس کے مطابق امریکا کرونا کے تصدیق شدہ کیسوں کی تعداد (2,044,572) کے لحاظ سے دنیا بھر میں سرفہرست ہے۔