.

پیرس ایک بارپھرمیدان جنگ بن گیا، مظاہرین اور پولیس میں تصادم،12 زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس کے دارالحکومت پیرس میں کل ہفتے کے روز سیکڑوں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور انہوں نے حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی شروع کر دی۔ دوسری جانب پولیس نے مظاہرین کومنتشر کرنے کے لیے ان پر طاقت کا اندھا دھند استعمال کیا جس کے نتیجےمیں ایک درجن مظاہرین زخمی ہوگئے۔

فرانسیسی پولیس نے ہفتے کے روز وسطی پیرس میں مظاہرین پر آنسو گیس کی شیلنگ کی۔ ہزاروں کی تعداد میں جمع ہونے والے مظاہرین نسل پرستی اور پولیس کے تشدد کے خلاف احتجاج کررہے تھے۔

العربیہ کے نامہ نگار کے مطابق پولیس نے احتجاج کے دوران "گوروں کے خلاف نسل پرستی" کے نعرے پرمبنی بینرز اٹھا رکھے تھے۔ اس موقعے پر پولیس نے 12کارکنوں کو گرفتار کیا۔

اڈامہ ٹراوی نامی ایک سفید فام مقتول کے حامیوں نے اس احتجاج کے انعقاد کا مطالبہ کیا تھا تاہم پولیس نے انہیں احتجاجی مظاہرہ کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اڈاما ایک سفید فام فرانسیسی شہری تھا جسے سنہ 2016ء میں پولیس کی تحویل میں تشدد کرکے ہلاک کردیا گیا تھا۔ مظاہرین اڈاما اور پولیس کے تشدد سے متاثر ہونے والے دوسرے افراد کے لیے انصاف کا مطالبہ کررہے تھے۔

ایک بہت بڑی تصویر میں اڈاما ٹواروی کا آدھا چہرہ اور امریکا میں پولیس کے تشدد سے ہلاک ہونے والے سیاہ فام جار فلائیڈ کا آدھا چہرہ دکھایا گیا۔ ٹوراوری ہمشیرہ آسا نے مظاہرین سے خطاب میں کہا کہ ہم سب ایک ہی چیز کا مطالبہ کرتے ہیں - سب کے لیے انصاف۔ اس نے بتایا کہ اس کے بھائی کو موت سے پہلے ہتھکڑی لگا کر پولیس نے حراست میں لے لیا تھا۔ اس کے بعد اسے دوران حراست تشدد کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا۔

اس کا معاملہ امریکا میں افریقی نژاد امریکی جارج فلائیڈ کی موت سے مشابہت رکھتا ہے۔ امریکا کی ریاست مینیسوٹا کے شہر منی پولس میں ایک پولیس اہلکار نے جارج فلائیڈ کو گلا گھونٹ کر ہلاک کردیا تھا۔ اس واقعے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد امریکا اور برطانیہ سمیت کئی مغربی ملکوں میں نسل پرستی کے خلاف شدید احتجاج شروع ہوگیا تھا۔