.

کیا سعودی دارالحکومت الریاض میں نوجوان کرونا وائرس پھیلانے کا سبب بن رہے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے دارالحکومت الریاض میں حالیہ دنوں میں نوجوان کرونا وائرس کے کیسوں کی تعداد میں اضافے کا سبب بنے ہیں اور انھوں نے وزارت صحت کی رہ نما ہدایات اور پیشگی حفاظتی احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد نہیں کیا ہے جس کی وجہ سے کرونا کے کیسوں کی تعداد میں روزبروز اضافہ ہوا ہے۔

یہ بات سعودی وزارتِ صحت کے ایک اعلیٰ عہدہ دار عبداللہ عسیری نے الاخباریہ ٹی وی چینل سے ایک انٹرویو میں کہی ہے۔الریاض میں جون کے آغاز کے بعد روزانہ دوسرے علاقوں کے مقابلے میں کرونا وائرس کے سب سے زیادہ کیس رپورٹ ہورہے ہیں۔

ان کے بہ قول ان نئے کیسوں میں زیادہ تر متاثرین نوجوان ہیں۔ان میں بالعموم کرونا وائرس کی علامات ظاہر نہیں ہوتی ہیں اور ان میں زیادہ تر نے اس وَبا کی روک تھام کے لیے حفاظتی احتیاطی تدابیر کو نظرانداز کیا ہے۔

انھوں نے کہا:’’ گذشتہ چند روز کے دوران میں ہم نے نوجوانوں میں کووِڈ-19 کے بہت زیادہ کیس ملاحظہ کیے ہیں۔ان میں بہت سے کیسوں کی تو بیماری کی کوئی علامت ظاہر ہوئے بغیر تشخیص ہوئی ہے اور اس وجہ سے ان نوجوانوں کے گھروں میں بھی کرونا وائرس کے کیسوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔یہ نوجوان ممکنہ طور پر پیشگی حفاظتی تدابیر کی پاسداری نہیں کررہے ہیں۔‘‘

عبداللہ عسیری نے مزید بتایا کہ حفاظتی احتیاطی تدابیر کی پاسداری نہ کرنے والے ڈرائیور حضرات نے بھی کیسوں میں اضافے میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔انھوں نے شہریوں اور مکینوں پر زوردیا ہے کہ وہ کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے وزارتِ صحت کی رہ نما ہدایات پرسختی سے عمل درآمد کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ'' اگر ہر کوئی حفاظتی احتیاطی تدابیر اور اقدامات پر عمل درآمد کا عزم کرے تو چند ہی ہفتوں میں دوسرے ممالک کی طرح ہمارے یہاں بھی کیسوں کی تعداد میں کمی واقع ہوجائے گی۔''

انھوں نے واضح کیا کہ الریاض میں کرونا کے کیسوں کی تعداد میں اضافے کے باوجود اسپتالوں میں کافی تعداد میں بستر اور انتہائی نگہداشت کے یونٹ موجود ہیں۔البتہ انھوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ دارالحکومت میں روزانہ کیسوں کی تعداد میں اضافے کی وجہ سے صحت عامہ کے نظام پر دباؤ پڑرہا ہے۔