.

ایران کا کروناکیسوں کی تعداد میں اضافے پر دوبارہ سخت اقدامات کے نفاذ کا انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے سوموار کو مسلسل دوسرے روز کرونا وائرس سے 100 سے زیادہ ہلاکتوں کی اطلاع دی ہے اور خبردار کیا ہے کہ اس مہلک وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے دوبارہ سخت اقدامات کا نفاذ کیا جاسکتا ہے۔

ایران کی وزارت صحت کی خاتون ترجمان سیما سادات لاری نے کووِڈ-19 سے 113 نئی ہلاکتوں کی اطلاع دی ہے۔ملک میں فروری میں اس وبا کے پھیلنے کے بعد مرنے والوں کی تعداد 8950 ہوگئی ہے۔

ترجمان نے بتایا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹے میں کرونا وائرس کے 2449 نئے کیسوں کی تشخیص ہوئی ہے اور اب ملک میں کل کیسوں کی تعداد 189876 ہوگئی ہے۔

واضح رہے کہ ایرانی حکومت نے مارچ میں کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے اسکولوں کو بند کردیا تھا،عوامی تقریبات اور سرگرمیوں پر پابندی عاید کردی تھی اور شہروں کے درمیان سفر پر پابندی عاید کردی تھی لیکن اپریل میں ان پابندیوں میں بتدریج نرمی کردی تھی۔

سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ایران میں مئی میں کوئی دو ماہ کے بعد کرونا وائرس کے کیسوں کے تعداد میں کمی واقع ہوئی تھی۔اس کے بعد اب دوبارہ کیسوں میں اضافہ شروع ہوگیا ہے۔

ایرانی حکومت کے ترجمان علی ربیع کا کہنا ہے کہ لوگ مزارات پر جاتے ہوئے اور پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کے وقت سماجی فاصلہ برقرار نہیں رکھ رہے ہیں۔انھوں نے ایک نیوزکانفرنس میں بتایا کہ ''تہران سب وے کے ذریعے سفر کے دوران میں 90 فی صد مسافر ماسک تو پہن رہے ہیں لیکن وہ سماجی فاصلہ اختیار نہیں کررہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’بعض صوبوں میں تو ہم بیماری کے عروج پر ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ یہ کوئی نیا عروج ہے۔اموات میں تیزی نہیں آئی ،تہران میں معمولی کمی واقع ہوئی ہے جبکہ بعض صوبوں میں ہلاکتوں میں اضافہ ہوا ہے۔‘‘

ترجمان نے خبردار کیا کہ ’’جب ہم نے یہ دیکھا کہ وائرس کا پھیلاؤ کنٹرول سے باہر ہورہا ہے تو ہم یقینی طور پر دوبارہ سخت فیصلوں کا نفاذ کریں گے۔‘‘

ایران نے اتوار کو کرونا وائرس سے 107 ہلاکتوں کی اطلاع دی تھی اور 13 اپریل کے بعد پہلی مرتبہ ہلاکتوں کی تعداد ایک سو سے اوپر ریکارڈ کی گئی تھی۔ترجمان سیما لاری کے مطابق ایران کے 31 میں سے پانچ صوبوں کو اس وقت’’ریڈ‘‘(سرخ) قرار دیا گیا ہے۔ایران کے وضع کردہ کرونا کے خطرے کے اسکیل میں یہ بلند سطح ہے۔