.

ترکی کے شمال مغربی علاقے میں کردنوازوں کا احتجاجی مظاہرہ ، پولیس سے جھڑپیں،10 گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی میں کرد نواز مظاہرین نے حزب اختلاف کے تین معطل ارکان کی حمایت میں احتجاجی مظاہرہ کیا ہے اور پولیس کی ان سے جھڑپیں ہوئی ہیں۔ پولیس نے ان مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کے گولے پھینکے اور ربر کی گولیاں چلائی ہیں۔

ترکی کے شمال مغربی علاقے سلیوری میں بیسیوں افراد نے حزب اختلاف ری پبلکن پیپلز پارٹی (سی ایچ پی) کے ایک رکن اور کرد نواز پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (ایچ ڈی پی) کے دو ارکان کی حمایت میں یہ ریلی نکالی تھی۔ان تینوں کی اسمبلی کی رکنیت معطل کردی گئی ہے اور انھیں پارلیمانی سرگرمیوں میں حصہ لینے سے روک دیا گیا ہے۔

اس ریلی کو ’’جمہوریت کے لیے مارچ‘‘ کا نام دیا گیا تھا۔ پولیس نے کم سے کم دس مظاہرین کو گرفتار کر لیا ہے۔واضح رہے کہ چار جون کو ایچ ڈی پی سے تعلق رکھنے والے دو ارکان موسیٰ فارس اوغلاری اور لیلیٰ گووین اور سی ایچ پی کے انیس بربر اوغلو کو پارلیمان میں حقِ نیابت سے محروم کردیا گیا تھا۔

ایچ ڈی پی کی شریک چئیرپرسن پروین بلدان نے آیندہ دنوں میں مزید احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا ہے۔انھوں نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’ ہم امن ،آزادی اور جمہوریت کی بحالی تک مارچ جاری رکھیں گے۔‘‘

ایچ ڈی پی کے رکن پارلیمان موسیٰ پیر اوغلو نے اپنی پہیّا کرسی سے سڑک بلاک کردی تھی تاکہ پانی توپ کا ٹرک مظاہرین کا پیچھا نہ کرسکے۔انھوں نے کہا:’’ آپ مجھے کچل کر ہی آگے جاسکتے ہیں۔‘‘

ادھر جنوب مشرقی شہر حکاری میں ایچ ڈی پی کے جنگجوؤں نے منتخب میئروں کی جگہ حکومت کے مقرر کردہ ٹرسٹیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ہے اور جیل میں بند ایچ ڈی پی کے دو لیڈروں فیجین یوکسیک داغ اور صلاح الدین دیمیرطس کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔انھیں ترک حکومت نے حزبِ اختلاف کی دوسری بڑی جماعت کے خلاف نومبر 2016ء میں کریک ڈاؤن کے وقت گرفتار کر لیا تھا اور وہ تب سے جیلوں میں بند ہیں۔