.

لیبیا کے حوالے سے ترکی کی پالیسی جارحانہ ہے، اس کی حمایت نہیں کی جا سکتی: فرانس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس نے لیبیا کی ترکی کی فوجی مداخلت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے ناقابل قبول قرار دیا ہے۔

فرانسیسی صدارتی محل سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ پیرس نے لیبیا میں ترکی کی مداخلت کے خلاف اپنا مؤقف مزید سخت کرتے ہوئے اسے "ناقابل قبول" قرار دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ فرانس لیبیا میں ترکی کو مداخلت کی اس کی اجازت نہیں دے سکتا۔

فرانس کئی مہینوں سے ترکی کو اس کے علاقائی عزائم پرتنقید کا نشانہ بناتا رہا ہے۔فرانس کا کہنا ہے کہ لیبیا کے ساحل پر سات جہازوں کی تعیناتی اور اسلحے کی پابندی کی خلاف ورزی کی شکل میں ترکی کی طرف سے ایک اور جارحانہ اور سخت پالیسی اپنائی ہے۔

فرانسیسی ایوان صدر نے مزید کہا کہ ترکی شمالی اوقیانو ممالک کے عسکری اتحاد (نیٹو) کا استعمال کرکے ناقابل قبول طرز عمل اپنا رہا ہے۔ فرانس ترکی کو اس کی اجازت نہیں دے سکتا۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ صدرعمانویل میکرون نے اپنے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ گذشتہ ہفتے کے دوران لیبیا کے معاملے پر تبادلہ خیال کیا تھا۔

میکرون نے اس سے قبل شام میں کرد مسلح گروپوں پر ترک فوجی حملوں کی بھی مذمت کی ہے۔ پیرس نے شام میں کرد جنگجوئوں پر ترکی کے حملوں پرعالمی برادری کی خاموشی پر بھی افسوس کا اظہار کیا۔