.

لدّاخ میں چین اور بھارت میں دوبدو لڑائی ،کرنل سمیت 20 بھارتی فوجی ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت اور چین کی فوجوں کے درمیان لدّاخ کے سرحدی علاقے میں واقع وادی گلوان میں دوبدو جھڑپیں ہوئی ہیں جن کے نتیجے میں ایک کرنل سمیت 20 بھارتی فوجی ہلاک ہوگئے ہیں۔

بھارتی فوج نے منگل کے روز ایک بیان میں چین کے ساتھ متنازع سرحد پر پُرتشدد جھڑپ کی تصدیق کی اور کہا کہ اس میں اس کا ایک افسر اور دو فوجی ہلاک ہوگئے ہیں لیکن بعد میں اس نے یہ اطلاع دی ہے کہ لڑائی میں زخمی ہونے والے مزید سترہ فوجی جان کی بازی ہارگئے ہیں۔

برطانوی اخبار ڈیلی ٹیلی گراف نے 13 بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کی اطلاع دی تھی اور کہا تھا کہ چینی فوجیوں نے کنٹرول لائن سے دراندازی کرنے والے بھارت کے 30 سے زیادہ فوجیوں کو پکڑ لیا تھا۔ان میں سے 32 کو آج واپس کردیا ہے جبکہ چار بھارتی فوجی ابھی تک لاپتا ہیں۔

بھارتی فوج نے اپنے بیان میں لداخ کے پہاڑی علاقے میں واقع وادی گلوان میں سوموار کو جھڑپ میں طرفین کے جانی نقصان کی اطلاع دی ہے لیکن بیجنگ نے کسی جانی نقصان کا کوئی ذکر نہیں کیا اور بھارت کو ان جھڑپوں کا مورد الزام ٹھہرایا ہے۔

اس علاقے میں تعینات بھارتی فوج کے ایک افسر نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر فرانسیسی خبررساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا ہے کہ اس واقعے میں کوئی گولی نہیں چلی اورصرف دو بدو ہاتھا پائی اور لڑائی ہوئی ہے۔

ادھر بیجنگ نے آج ایک بیان میں جھڑپ کی تصدیق کی ہے لیکن اس میں ہلاکتوں کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ اس نے بھارتی فوجیوں پر چینی علاقے میں دراندازی کا الزام عاید کیا ہے اور کہا ہے کہ انھوں نے پہلے چینی اہلکاروں پر حملہ کیا تھا۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لی جیان نے کہا کہ ’’ بھارتی فوجیوں نے دو مرتبہ سرحدی لکیر عبور کی تھی اور چینی اہلکاروں پر حملہ کیا تھا۔اس کے نتیجے میں طرفین کی سرحدی فورسز کے درمیان جسمانی ٹاکرا ہوا ہے۔‘‘

ترجمان نے کہا:’’ ہم یہ درخواست کرتے ہیں کہ بھارت بہتر رویے اور طرزعمل کا مظاہرہ کرے اور سرحد پر تعینات اپنے فوجیوں کو ضبط وتحمل کا مظاہرہ کرنے کی ہدایت کرے۔‘‘

واضح رہے کہ چین اور بھارت کی افواج کے درمیان حالیہ ہفتوں کے دوران میں سرحدی علاقے میں متعدد مرتبہ جھڑپیں ہوچکی ہیں۔ان کا آغاز 9 مئی کو ریاست سِکم کے انتہائی بلندی پر واقع سرحدی علاقے میں دوبدو لڑائی سے ہوا تھا۔چینی اور بھارتی فوجیوں نے ایک دوسرے پر پتھراؤ کیا تھا جس کے نتیجےمیں فریقین کے متعدد فوجی زخمی ہوگئے تھے۔

چین اور بھارت کے درمیان 3500 کلومیٹر (2200 میل) طویل سرحد ہے لیکن دشوار گذار پہاڑی علاقہ ہونے کی وجہ سے اس کی مناسب طریقے سے حد بندی نہیں ہوئی ہے اور دونوں ملکوں ہی غیر شناختہ سرحدی علاقوں پر اپنا حق جتلاتے رہتے ہیں۔

بعض بھارتی مبصرین کے مطابق بھارت سرحدی علاقے میں سڑکیں اور فضائی پٹی تعمیر کررہا ہے۔ وہ چین کے بیلٹ اور روڈ اقدام کے ردعمل میں یہ تعمیرات کررہا ہے اور اس وجہ سے دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی پیدا ہوئی ہے۔

دونوں ملکوں کے درمیان 1962 سے سرحدی علاقے میں کشیدگی چلی آرہی ہے۔تب ان کے درمیان شمال مشرق میں واقع ریاست اروناچل پردیش پر تنازع پر باقاعدہ جنگ لڑی گئی تھی۔

چین نے گذشتہ ہفتے بھارت کے ساتھ پیدا ہونے والی سرحدی کشیدگی کے حل کے لیے ’’ مثبت اتفاق رائے‘‘ طے پانے کی اطلاع دی تھی۔چینی وزارت خارجہ کی خاتون ترجمان حوا چونائنگ نے بیجنگ میں گذشتہ بدھ کو پریس بریفنگ میں کہا تھا کہ ’’ سفارتی اور فوجی چینلوں کے ذریعے ’مؤثر ابلاغ‘ سے سرحد پر پیدا ہونے والی حالیہ کشیدگی کے حل کے لیے’مثبت اتفاق رائے‘ ہوگیا ہے۔‘‘

انھوں نے کہا کہ اب طرفین اس اتفاق رائے کی بنیاد پر سرحد پر کشیدگی کے خاتمے کے لیے مناسب اقدامات کررہے ہیں۔‘‘مگر انھوں نے اس کی مزید کوئی تفصیل نہیں بتائی تھی۔