.

شامی رجیم "سیاسی ڈیل" یا پابندیوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرے: امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے شام میں اسد رجیم کو خبردار کیا ہے کہ وہ ملک میں جاری تنازع کے سیاسی حل یا سخت ترین اقتصادی پابندیوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرلے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امریکا نے واضح کیا ہے کہ اگر شامی رجیم نے ملک میں جاری تنازع کو فوجی طریقے سے حل کرنے کی کوشش جاری رکھی تو دمشق کو سخت ترین اقتصادی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

امریکا کی طرف سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دوسری طرف شام کے حوالے سے امریکا کی طرف سے تیار کردہ "قانون قیصر" عمل درآمد کے لیے تیار ہے۔

اقوام متحدہ میں امریکی سفیرہ کیلی کرافٹ نے سلامتی کونسل میں ایک بیان میں کہا کہ صدر ٹرمپ کی انتظامیہ نے اسد رجیم کو فوجی فتح کے حصول سے روکنے کے لیے سخت تدابیر اپنائی ہیں۔ ہم اسد رجیم اور اس کے اتحادیوں کو اقوام متحدہ کی نگرانی میں ملک میں سیاسی عمل کی بحالی کے لیے دبائو ڈالتے رہیں گے۔

خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ برس شام کے حوالے سے "قیصر ایکٹ" کے نام سے ایک نیا قانون منظور کیا تھا۔ اس قانون کے تحت شام میں اسد رجیم، اس کی معاون کمپنیوں اور اداروں، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کرنے والی شامی شخصیات، روس اور ایران کے لیے کام کرنے والے اداروں پر اقتصادی پابندیوں کی منظوری دی گئی ہے۔

قیصر شام کی ملٹری پولیس کا ایک سابق منحرف اہلکار تھا جس نے سنہ 2013ء میں اسد رجیم سے نہ صرف علم بغاوت بلند کیا بلکہ اس نے شامی جیلوں میں قیدیوں پر تشدد کی 55 ہزار تصاویر کوبھی طشت ازبام کردیا تھا۔

امریکی سفیرہ کیلی کرافٹ کا کہنا تھا کہ ہمارا مقصد اسد رجیم کو اس کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی سزا دینا اور ملک میں جاری تنازع کے حل کے مواقع ضائع کرنے پر دمشق کو اقتصادی پابندیوں میں جکڑنا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں