دنیا بھر میں بے گھر افراد کی تعداد 8 کروڑ تک پہنچ رہی ہے: اقوام متحدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اقوام متحدہ نے جمعرات کے روز ایک اعلان میں بتایا ہے کہ دنیا کی آبادی کا 1% سے زیادہ حصہ یعنی تقریبا 8 کروڑ افراد پُرتشدد کارروائیوں اور جبر کے سبب اپنے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور ہو کر آج کہیں دور دراز مقامات پر زندگی گزار رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق گذشتہ ایک دہائی کے اندر بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ ہوا۔

اقوام متحدہ کے زیر انتظام پناہ گزینوں کے ہائی کمیشن کی آخری رپورٹ میں بتایا گیا کہ سال 2019 کے اختتام پر 7.95 کروڑ افراد ایسے تھے جو کہ پناہ گزین تھے یا پناہ کے طالب تھے یا پھر اپنے ملکوں کے اندر ہی نقل مکانی کر کے بے گھر ہو چکے تھے۔ ان افراد کی اپنے گھروں کو واپسی کے مواقع بھی کم ہو گئے۔

Advertisement

پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر فلپو گرانڈی نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو دیے گئے انٹرویو میں بتایا کہ دنیا کی 1% آبادی جنگوں، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور تشدد کی دیگر صورتوں کے سبب اپنے گھروں کو واپس نہیں لوٹ سکتی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بحرانات کے روکنے کے لیے "سیاسی حل کافی نہیں ہیں" .. وہ بحرانات جن کے نتیجے میں لوگ اپنے گھروں سے بے دخل ہو جاتے ہیں اور پھر واپس نہیں آ پاتے۔ گرانڈی کے مطابق دس برس قبل بے گھر افراد کی تعداد 4 کروڑ تھی جو ایک دہائی کے اندر دو گنا ہو گئی .. اور ہمارے نزدیک یہ رجحان سست نہیں پڑے گا۔

پناہ گزینوں سے تعلق ہائی کمیشن کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ 4.57 کروڑ افراد اپنے ملکوں میں ہی دیگر علاقوں کی جانب فرار ہونے پر مجبور ہوئے ، 2.6 کروڑ پناہ گزین اپنے ملکوں کی سرحدوں سے باہر مقیم ہیں اور 4.2 کروڑ افراد پناہ کے طالب ہیں۔

گرانڈی نے بتایا کہ "عالمی برادی منقسم ہے جس کے سبب وہ امن کو یقینی بنانے کی قدرت نہیں رکھتی۔ لہذا صورت حال مزید ابتر ہو گی اور مجھے اندیشہ ہے کہ آنے والا سال رواں سال سے زیادہ برا ہو گا"۔

مقبول خبریں اہم خبریں