.

لیبیا میں 10 ہزار افراد عسکریت پسندوں کی قید میں ہیں: اقوام متحدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا میں اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ لیبیا میں موجود عسکریت پسندوں نے دس ہزار افراد کو قید کر رکھا ہے۔ اقوام متحدہ نے لیبیا میں ہزاروں افراد کو یرغمال بنائے جانے کے واقعات کی بین الاقوامی سطح پر تحقیقات پر زور دیا ہے۔

قبل ازیں لیبیا کی نیشنل آرمی کے ترجمان میجر جنرل احمد المسماری نے کہا تھا کہ قومی وفاق حکومت کی وفادار ملیشیائیں انسانی حقوق اور عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں کی مرتکب ہو رہی ہیں۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک پرپوسٹ کردہ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ قومی وفاق حکومت کی وفادار فورسز ایمبولینسوں کو دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے استعمال کررہی ہیں۔

انہوں نے مصراتہ شہر میں موجود ایک عسکریت پسند گروپ کی جانب سے زیرحراست افراد کو تشدد کا نشانہ بنائے جانے کی ویڈیو جاری کی اور کہا کہ عسکریت پسند کھلے عام انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کے مرتکب ہو رہے ہیں۔

گذشتہ منگل کو طرابلس کی قومی وفاق حکومت نے ترھونہ شہر میں اس کے وفادار عسکریت پسندوں کی جانب سے انسانی حقوق کی پامالیوں کا اعتراف کیا تھا۔

قومی وفاق حکومت کے وزیر داخلہ فتحی باشاغا نے ایک بیان میں کہا کہ حکومتی ملیشیا کی جانب سے زیرحراست پر تشدد انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔