.

بھارت اور چین کے ایک دوسرے پر حقیقی کنٹرول لائن کی خلاف ورزی کے الزامات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت اور چین نے ایک دوسرے پر دونوں ملکوں کے درمیان واقع حقیقی حد متارکہ جنگ (کنٹرول لائن) کی خلاف ورزی کے الزامات عاید کیے ہیں۔

دونوں ملکوں کی فوجوں کے درمیان گذشتہ سوموار کو ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے میں واقع لدّاخ کے سرحدی علاقے میں دوبدو لڑائی ہوئی تھی جس کے نتیجے میں 20 بھارتی فوجی ہلاک اور 70 سے زیادہ زخمی ہو گئے تھے۔ چین نے ابھی تک اپنے فوجیوں کے جانی نقصان کے بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے جمعہ کو دونوں ملکوں کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی رفع دفع کرنے کی کوشش کی تھی اور کہا تھا کہ ہم نے کسی کے علاقے پر قبضہ کیا ہے اور نہ ہمارا علاقہ اس وقت کسی کے قبضے میں ہے۔

لیکن ہفتے کے روز ان کی حکومت نے چین پر لائن آف کنٹرول کے پار ڈھانچے کھڑے کرنےکا الزام عاید کیا ہے اور کہا ہے کہ اس نے بھارت کی درخواست پر تعمیراتی کام روکنے سے انکار کردیا ہے۔

وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بھارت متنازع سرحد پر یک طرفہ طور پر کسی قسم کی تبدیلیاں کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لی جیان نے بھارتی فوجیوں پر کشیدہ علاقے میں جان بوجھ کر اشتعال پھیلانے کا الزام عاید کیا ہے۔

انھوں نے سلسلہ وار ٹویٹس میں لکھا ہے کہ وادی گلوان کنٹرول لائن سے چین کی طرف واقع ہے۔بھارتی اپریل سے اس علاقے میں یک طرفہ طور پر سڑکیں ، پُل اور دوسری تنصیبات تعمیر کررہے ہیں۔

مسٹر ژاؤ نے مزید الزام عاید کیا ہے کہ ’’بھارتی فوجیوں نے حقیقی حد متارکہ جنگ کو عبور کیا اور وہاں مذاکرات کے لیے موجود چینی افسروں اور فوجیوں پر پِل پڑے۔اس کے بعد دو بدو شدید لڑائی چھڑ گئی تھی۔‘‘

دوسری جانب بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان انوراگ سری وستاوا کا کہنا ہے کہ بھارت کی جانب سے حقیقی کنٹرول لائن کی کوئی خلاف ورزی نہیں کی گئی ہے۔چین کے اس ضمن میں دعوے ناقابل قبول ہیں۔

دریں اثناء امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے بھارت کے ساتھ سرحد پر کشیدگی کو بڑھاوا دینے پر چین کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔انھوں نے کوپن ہیگن میں منعقدہ ورچوئل جمہوری سمٹ میں گفتگو کرتے ہوئے چین کی پیپلز لبریشن آرمی پر سرحد پر کشیدگی میں اضافے کا الزام عاید کیا ہے۔