.

دُنیا کرونا وبا کے نئے اور خطرناک دور میں داخل ہوچکی: ڈبلیو ایچ او

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے جمعہ کے روز انتباہ کیا ہے کہ دنیا کرونا وبا کے ایک خطرناک مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔ عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ اگرچہ بعض ممالک نے کرونا وبا کی وجہ سے اپنے ہاں عاید کی گئی پابندیوں میں نرمی اور نقل وحرکت کو بحال کرنا شروع کردیا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس اڈھانم گیبریوس ایک ورچوئل پریس کانفرنس میں کہا کہ دنیا کرونا کے ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔ بہت سے لوگ یقینی طور پر اپنے گھروں میں ہی رہ کر تھک چکے ہیں۔ ممالک اپنے معاشروں اور معیشتوں کو دوبارہ کھولنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ کرونا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے اور جان لیوا بھی ہوگا۔ دنیا کی زیادہ آبادی اس کے خطرے سے دوچار ہے۔ عالمی ادارے کی طرف سے عالمی برادری کو خبردار کیا جاتا ہے کہ وہ وبا سے بچنے کے لیے کچھ عرصہ مزید پابندیاں برقرار رکھیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ سماجی وقفہ ، ماسک پہننا اور ہاتھ دھونے جیسے اقدامات اب بھی اہم ہیں۔

جمعرات کے روز گیبریوس نے نشاندہی کی تھی کہ عالمی ادارہ صحت نے کرونا شروع ہونے کے بعد ایک ہی دن میں سب سے ریکارڈ متاثرین کے اعدادو شمار جمع کیے ہیں۔ ایک ہی دن میں کرونا کے ڈیڑھ لاکھ کیس سامنے آئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ رپورٹ کیے جانے والے نئے کیسز میں سے نصف کا تعلق امریکا سے ہے۔ جنوبی ایشیاء اور مشرق وسطی میں بھی بڑی تعداد میں وائرس کا پتہ چلا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا مشترکہ فرض ہے کہ ہم کوویڈ 19 انفیکشن کی روک تھام ، ادویات کی دریافت اوروبا کے روک تھام کے لیے ہر ممکن کوشش کریں۔