.

سولہ ارب ڈالر ۔۔۔ تُرکی لیبی حکومت کی مدد کے ثمرات سمیٹنے لگا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جمعہ کے روز ایک سینیر ترک عہدیدار نے کہا ہے کہ ترکی تنازعات کا شکار ہونے والے پڑوسی ملک لیبیا کی تعمیر نو میں تیزی سے اقدامات شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔ خیال رہے کہ ترک صدر صدر رجب طیب اردوآن کے اعلی معاونین نے اس ہفتے طرابلس کا دورہ کیا تاکہ توانائی، تعمیرات اور بینکاری کے شعبوں میں تعاون کے ذرائع پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔

ترکی کی حمایت نے لیبیا کی فائز السراج حکومت کو جنگ میں رخ موڑنے اور دارالحکومت طرابلس کو کنٹرول کرنے کے لیے خلیفہ حفتر کی سربراہی میں مشرقی لیبیا (لیبیا نیشنل آرمی) کے ذریعہ شروع کی گئی 14 ماہ پرانی کارروائی کو ناکام بنانے میں مدد فراہم کی۔ ترکی نے فائز السراج کو اجرتی قاتل اور ہرقسم کا اسلحہ اور گولہ بارود فراہم کیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ترکی آج فائز السراج کو دی جانےوالی مدد کے ثمرات سمیٹنے لگا ہے۔ ترکی کو توقع ہےکہ لیبیا کی پچھلی حکومت کےدور میں لیبیا میں پھنسے اس کے سولہ ارب ڈالرواگزار ہوجائیں گے۔

وزرائے خارجہ اور وزرائے خزانہ پر مشتمل ایک ترک وفد نے بدھ کے روز لیبیا کی قومی وفاق حکومت میں حکام سے مذاکرات کیے۔

اس عہدے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر رائیٹرز کو بتایا کہ انہوں نے لیبیا میں پچھلی حکومت میں توانائی اور تعمیراتی کاموں کے لیے ترک کمپنیوں کی ادائیگیوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

سینیر عہدیدار نے مزید کہا کہ ترک حکام اور قومی وفاق نے ان طریقوں پر تبادلہ خیال کیا ہے جن کے تحت ترکی عالمی منڈیوں لیبی حکومت کی رسائی میں توانائی کی تلاش اور توانائی کے شعبوں میں مدد کرسکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ملک کے بیشتر حصوں میں تباہی ہوئی ہے اور انفراسٹرکچر کی جلد بحالی کی ضرورت ہے۔ ترک کمپنیاں اس طرح کے کاروبار کو جلد شروع کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔

اس سے پہلے نومبر میں ترکی نے قومی وفاق حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ سابقہ حکومت کے دور میں شروع کیے گئے منصوبوں کے رکے سولہ ارب ڈالر ادا کرے۔ ان میں سے 40 کروڑ سے 50 کروڑ ڈالر کی رقم کی اسکیمیں سرے سےشروع ہی نہیں ہوسکیں۔

عہدیدار نے مزید کہا کہ ترک بجلی کمپنی کاراڈینیز پاور لڑائی کے دوران لیبیا میں بجلی کی قلت کو دور کرنے کے لیے اپنے جہازوں کا استعمال کر سکتی ہے۔