.

لیبیا : جی این اے کا عرب لیگ کے زیراہتمام امن مذاکرات کے بائیکاٹ کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا میں اقوام متحدہ کی تسلیم شدہ قومی اتحاد کی حکومت (جی این اے) نے عرب لیگ کے زیراہتمام بحران پر غور کے لیے وزرائے خارجہ کی بات چیت کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا ہے۔

جی این اے کے تحت وزیر خارجہ محمد طاہر سیالا نے جمعہ کو بلاک کی ایگزیکٹو کونسل میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجوزہ اجلاس سے عرب حکومتوں کے درمیان تنازع کے بارے میں پہلے سے جاری اختلافات مزید گہرے ہی ہوں گے۔

عرب وزرائے خارجہ کے درمیان بات چیت ویڈیو کانفرنس کے ذریعے ہوگی۔تنظیم کا یہ ورچوئل اجلاس مصر کی اپیل پر طلب کیا گیا ہے اور وہ جی این اے کی مخالف لیبی قومی فوج کی حمایت کررہا ہے۔

طاہر سیالا نے شکایت کی ہے کہ عرب وزرائے خارجہ کا یہ اجلاس لیبیا کے معاملے پر غور کے لیے طلب کیا جارہا ہے لیکن ان کی حکومت سے اس ضمن میں کوئی مشاورت نہیں کی گئی ہے۔انھوں نے کہا کہ تصفیہ طلب امور کو طے کرنے کے لیے ورچوئل طرز کا اجلاس مناسب نہیں ہے۔

جی این اے کے تحت فورسز نے اسی ماہ ترک فورسز کی مدد سے جنرل خلیفہ حفتر کے زیر قیادت لیبی قومی فوج کو دارالحکومت طرابلس کے نواح سے مار بھگایا ہے۔ایل این اے نے گذشتہ قریباً ایک سال سے طرابلس کا محاصرہ کررکھا تھا لیکن اب اس کو پسپا ہونا پڑا ہے اور اس کے بعد سے جی این اے کا ہاتھ ایک مرتبہ پھر بالادست ہوگیا ہے۔

مصر نے اس کے بعد گذشتہ ہفتے لیبیا میں جنگ بندی کے لیے ایک امن اقدام پیش کیا تھا۔ایل این اے کے حامی ممالک متحدہ عرب امارات ، اردن اور سعودی عرب نے اس کی حمایت کا اظہار کیا ہے جبکہ جی این اے اور ترکی نے اس مصری پیش کش کو مسترد کردیا ہے۔ دوسری جانب امریکا نے اقوام متحدہ کے زیر قیادت جنگ بندی کے لیے بات چیت کی ضرورت پر زوردیا ہے۔