.

برطانیہ : تین افراد کی ہلاکت کا واقعہ دہشت گردی قرار،مشتبہ لیبی حملہ آور زیر حراست

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ کے جنوبی قصبے ریڈنگ میں پولیس نے لیبیا سے تعلق رکھنے والے ایک مشتبہ شخص کو پارک میں لوگوں کو چاقو گھونپنے کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے اور واقعے کو دہشت گردی قرار دیا ہے۔

اس مشتبہ شخص نے ہفتے کی شام ایک ریلی کے بعد پارک میں متعدد افراد پر چاقو سے پے درپے وار کیے تھے جس کے نتیجے میں تین افراد ہلاک اور تین زخمی ہوگئے تھے۔ پولیس نے ابھی تک ان مہلوکین کی شناخت جاری نہیں کی ہے۔

ایک مغربی سکیورٹی ذریعے نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر برطانوی خبررساں ایجنسی رائیٹرز کو بتایا ہے کہ زیرحراست مشتبہ لیبی کا نام خیری سعد اللہ ہے اور اس کی عمر پچیس سال ہے۔

برطانیہ کے انسداد دہشت گردی پولیس کے سینیر افسر نیل باسو نے بتایا ہے کہ اس مشتبہ شخص نے فوربری گارڈنز میں لوگوں پر چاقو سے حملہ کیا تھا۔پھر اس کو غیر مسلح افسروں نے پکڑ لیا تھا۔انھوں نے کہا کہ چاقو زنی کے اس واقعہ کی رات بھر تحقیقات کے بعد اس کو دہشت گردی قراردیا گیا ہے اور یہ سفاکیت کا شاخسانہ تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت تک کسی اور ملزم کے اس واقعے میں ملوث ہونے کا کوئی پتا نہیں چلا ہے اور مزید مشتبہ افراد کی تلاش نہیں کی جارہی ہے۔حملے کے محرکات کا ابھی تعیّن نہیں کیا جاسکا لیکن ایسی کوئی انٹیلی جنس اطلاعات نہیں تھیں کہ عوامی مقامات پر اس طرح کا کوئی حملہ ہوسکتا ہے یا وہ خطرے سے دوچار ہیں۔

برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے آج اس واقعے پر غور کے لیے اپنے وزراء ، سکیورٹی حکام اور پولیس کا ایک اجلاس منعقد کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر ضرورت پیش آئی تو مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے قانون میں تبدیلی کی جاسکتی ہے اوراگر ضروری ہوا تو ہم کسی کارروائی سے ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کریں گے۔

ابتدا میں پولیس اور حکومت نے یہ کہا تھا کہ یہ واقعہ دہشت گردی نہیں اور وہ کھلے ذہن کے ساتھ اس کی تحقیقات کررہے ہیں۔اس کے بعد انھوں نے واقعے کو دہشت گردی قرار دیا ہے۔

ریڈنگ میں اس واقعے سے چندے قبل ’’سیاہ فام زندگیاں بھی اہمیت کی حامل ہیں‘‘ تحریک کے زیر اہتمام پُرامن احتجاجی مظاہرہ کیا گیا تھا لیکن برطانوی حکام کا کہنا ہے کہ ان دونوں واقعات کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے۔