.

یمنی حوثی کم سن بچّوں کو کیسے بہلا پھسلا کرجنگ میں جھونک رہے ہیں؟ ویڈیو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی شیعہ باغیوں کی سرکاری فوج کے خلاف جنگ میں افرادی قوت کم پڑتی جارہی ہے اور اب وہ مسلسل کم سن بچّوں کو بہلا پھسلا کر یمنی فوج کے خلاف میدان جنگ میں جھونک رہے ہیں۔

یمن کے ایک کم سن طالب علم نے ایک نئی ویڈیو میں یہ انکشاف کیا ہے کہ اس کو ایک حوثی کمانڈر نے پکڑ لیا تھا اور جب اس کو پتا چلا کہ اس بچّے کے خاندان کے مالی حالات ٹھیک نہیں تو اس نے اس بچّے کو بہلایا پھسلایا کہ اگر وہ میدان جنگ میں ان کے ساتھ ہتھیار اٹھائے تو اس کے خاندان کو مالی امداد مہیا کی جائے گی۔

اس بچے کو ضروری تربیت کے بعد دارالحکومت صنعاء سے مشرق میں واقع نہم کے محاذ جنگ پر بھیجا گیا تھا اور وہیں سے اس کو یمنی فوجیوں نے پکڑا تھا۔

یمن کی مسلح افواج کے میڈیا مرکز نے اس کی ایک ویڈیو آن لائن پوسٹ کی ہے۔اس میں وہ اپنا نام عبدالسلام الجزر بتا رہا ہے۔وہ بتاتا ہے کہ اس کو ربیع صالح نامی ایک حوثی لیڈر نے دھوکے سے پھنسایا تھا اور اس سے یہ کہا تھا کہ وہ اگر قرآن مجید کی آیات یاد کرے گا اور مذہبی تعلیمات سیکھے گا تو اس کو اس تعلیم کی تکمیل کے بعد ’’عید کا تحفہ‘‘ دیا جائے گا۔

جب یہ کورس مکمل ہوگیا تو الجزر اور دوسرے بچوں سے کہا گیا کہ وہ مالی تحائف لانے والی کمیٹی کا انتظار کریں لیکن ایسی تو کوئی کمیٹی تھی ہی نہیں اور وہ اس کا انتظار ہی کرتے رہ گئے۔ پھر ان لڑکوں کوعسکری تربیت کے بعد لڑائی کے لیے نہم کے محاذ پر لے جایا گیا۔

ویڈیو میں اس نے اپنی کہانی کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ ان لڑکوں کے نہم کے محاذ پر پہنچنے کے تین گھنٹے کے بعد قومی فوج نے ان کے ٹھکانے پر حملہ کردیا تھا۔اس حملے میں بارہ لڑکے مارے گئے تھے اور الجزر کو ہتھیار ڈالنا پڑے تھے۔

اس نے ویڈیو میں دوسرے یمنی لڑکوں کے نام پیغام میں ہے کہ وہ حوثیوں کے وعدوں پر کوئی اعتبار نہ کریں۔اس نے انھیں ’’غدار‘‘ اور چور قرار دیا ہے۔اس نے ان لڑکوں سے مخاطب ہوکر کہا:’’ اپنے گھروں کو واپس چلے جاؤ اور حوثیوں کو خود کو دھوکا دینے کا موقع نہ دو ۔وہ آپ کو پیٹھ میں چھرا گھونپیں گے۔‘‘

واضح رہے کہ یمنی حکومت حوثی ملیشیا کی جانب سے بچّوں کو لڑائی کے لیے بھرتی کرنے کی مذمت کرتی چلی آرہی ہے۔اس نے حوثیوں پر کم سے کم تیس ہزار یمنی بچّوں کو جنگ کے لیے بھرتی کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔اس سے پہلے بھی کئی بچّے حوثیوں کے ساتھ یمنی فوج کے خلاف لڑتے ہوئے پکڑ گئے ہیں اور انھیں بحالی کے عمل سے گزارنے کے بعد والدین کے حوالے کیا جاچکا ہے۔