.

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کا لیبیا میں 2016ء سے خلاف ورزیوں کی تحقیقات کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے تحت انسانی حقوق کونسل نے سوموار کو ایک قرار داد کی منظوری دی ہے۔کونسل نے اس کے ذریعے خانہ جنگی کا شکار لیبیا میں 2016ء سے انسانی حقوق کے قانون کی خلاف ورزیوں اور انسانیت مخالف جرائم کے حقائق جمع کرنے کے لیے ایک مشن کی تشکیل کا حکم دیا ہے۔

جنیوا میں انسانی حقوق کونسل نے سوموار کو اس قرارداد کی کسی ووٹ کے بغیر اتفاق رائے سے منظوری دی ہے۔ اس میں لیبیا میں تشدد کی تمام کارروائیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے اور اس میں انسانی حقوق کمشنر میشیل بیشلیٹ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر حقائق اکٹھا کرنے والا ایک مشن تشکیل دے کر جنگ زدہ ملک میں بھیجیں۔

جنیوا میں اقوام متحدہ میں متعیّن لیبیا کے سفیر تمیم بائیو نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ اس قرار داد سے یہ ثابت ہوگا کہ ملک میں بلا استثنا انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے مزید کوئی رو رعایت نہیں برتی جائے گی۔

اس قرارداد کا مسودہ مارچ میں افریقی ممالک کے ایک گروپ نے 47 ارکان پر مشتمل انسانی حقوق کونسل میں پیش کیا تھا لیکن کرونا وائرس کی وجہ سے کونسل کے سالانہ اجلاس کے انعقاد میں تین ماہ تک تاخیر ہوئی ہے جس کی وجہ سے اس پر رائے شماری بھی مؤخر ہوتی رہی ہے۔

سوئٹزر لینڈ کی جانب سے کرونا وائرس کی روک تھام کے لیے عاید کردہ پابندیوں میں نرمی کے بعد گذشتہ ہفتے کونسل کا تینتالیسواں اجلاس شروع ہوا تھا اور آج اس کے آخری سیشن میں لیبیا کے بارے میں قرارداد اتفاق رائے سے منظوری کی گئی ہے۔

اس قرارداد میں ’’تشدد ، جنس اور صنف کی بنیاد پرتشدد اور جیلوں اورحراستی مراکز میں قیدیوں اور زیر حراست افراد کے کٹھن حالات سے متعلق رپورٹس پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔‘‘

قرارداد کے مسودے کے مطابق ’’حقائق اکٹھا کرنے والے مشن کے ماہرین 2016ء کے اوائل سے لیبیا کے تمام فریقوں کے ہاتھوں انسانی حقوق کے قانون کی مبیّنہ خلاف ورزیوں کی تحقیقات کریں گے اور انھیں کونسل میں آیندہ سال دستاویزی ثبوت پیش کرنے کے لیے طلب کیا جائے گا۔‘‘

اس میں ماہرین پر زوردیا گیا ہے کہ وہ ستمبر میں کونسل کو اپنے کام کی پیش رفت کے بارے میں آگاہ کریں اور اس کے بعد آیندہ سال مارچ میں ایک تحریری رپورٹ پیش کریں۔

واضح رہے کہ لیبیا میں 2011ء میں سابق مطلق العنان صدر معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے خانہ جنگی جاری ہے۔اس میں 2015ء کے بعد سے تیزی آئی ہے اور تب سے طرابلس میں قائم قومی اتحاد کی حکومت (جی این اے) کی فورسز اور مشرقی لیبیا سے تعلق رکھنے فوجی کمانڈر جنرل خلیفہ حفتر کی قومی فوج (ایل این اے) کے درمیان لڑائی جاری ہے۔ اس لڑائی میں سیکڑوں افراد مارے جاچکے ہیں۔