.

ترکی پر غیر قانونی نظامِ حکومت قابض ہے : اپوزیشن جماعت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی میں (کردوں کی حامی) اپوزیشن جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے ملک میں "جمہوریت" کو مضبوط بنانے کے لیے اپنی تحریک جاری رکھی ہوئی ہے۔ اس سلسلے میں پارٹی نے گذشتہ روز اتوار کو "جمہوریت ،،، انقلاب کے خلاف ہے" کے نام سے اپنی ریلی کو اختتام پر پہنچایا۔ اس ریلی کا آغاز 15 جون کو ہوا تھا۔

مذکورہ اپوزیشن پارٹی نے حکام کی جانب سے اُن عدالتی فیصلوں پر عمل درامد نہ کیے جانے پر تنقید کی جن میں کہا گیا تھا کہ پارٹی کے سابق شریک سربراہ صلاح الدین دمیرطاش کو رہا کیا جائے۔ پارٹی کے مطابق یہ ممانعت اس بات کا اعتراف ہے کہ دمیرطاش کو ایردوآن کی حکومت نے سیاسی یرغمال بنا لیا ہے۔

عربی روزنامے "الشرق الاوسط" کے مطابق 4 نومبر 2016 سے زیر حراست دمیرطاش کے ساتھ تحقیقات جاری ہیں۔ ان پر ایک دہشت گرد تنظیم قائم کرنے اور دہشت گرد تنظیموں کو سپورٹ کرنے کے حوالے سے الزامات ہیں۔

ترکی میں اعلی آئینی عدالت نے فیصلہ دیا تھا کہ دمیرطاش کی حراست کی مدت ،،، اجازت دیے گئے عرصے کی انتہائی حد سے تجاوز کر چکی ہے۔ لہذا ان کے قانونی حقوق کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ بعد ازاں عدالت نے دمیرطاش کی رہائی کا فیصلہ جاری کیا اور حکم دیا کہ انہیں زرِ تلافی کے طور پر 50 ہزار لیرہ دیے جائیں۔

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے عدالتی فیصلے کے حوالے سے ایردوآن حکومت کے موقف کی بھرپور مذمت کی ہے۔ یہ چوتھی مرتبہ ہے کہ حکومت نے دمیرطاش کی رہائی کے حوالے سے فیصلے پر عمل درامد نہیں کیا۔ پارٹی کے مطابق "اس سے باور ہوتا ہے کہ ترکی میں ایک غیر قانونی نظام حکومت کر رہا ہے اور ملک میں انصاف مکمل طور پر برباد ہو چکا ہے"۔

انسانی حقوق کی یورپی عدالت نے 20 نومبر 2018ء کو جاری اپنے ایک فیصلے میں دمیرطاش کو "سیاسی قیدی" قرار دیتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم ایردوآن نے اعلان کیا تھا کہ ترکی اس فیصلے پر عمل درامد کا پابند نہیں۔